Latest Updates
TO BUY “ ANY BOOKS” PLEASE CONTACT PUBLISHER

افضل حسین ؒ قائدینِ تحریکِ اسلامی کے احساسات/ افضل حسینؒ ۔ایثار وقربانی کاپیکر

انعام الرحمن خاں، بھوپال

(سابق امیر حلقہ مدھیہ پردیش)

اس کی امیدیں قلیل،اس کے مقاصد جلیل ۱۹۴۵ء میں مولانا سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ فرمایا تھا: ’’۔۔۔ ہم دراصل ایک ایسا گروہ تیار کرنا چاہتے ہیں جو ایک طرف زہد و تقویٰ میں اصطلاحی زاہدوں اور متقیوں سے بڑھ کر ہو، اور دوسری طرف دنیا کے انتظام کو چلانے کی قابلیت و صلاحیت بھی تمام دنیاداروں سے زیادہ اور بہتر رکھتا ہو۔ ہمارے نزدیک دنیا کی تمام خرابیوں کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ نیک لوگ نیکی کے صحیح مفہوم سے نا آشنا ہونے کی بنا پر گوشہ گیر ہوکر بیٹھ جاتے ہیں اور پرہیز گاری اس کو سمجھتے ہیں کہ دنیا کے معاملات ہی سے پرہیز کریں،اور دوسری طرف ساری دنیا کے کاروبار برے لوگوں کے ہاتھ میں آجاتے ہیں۔ جن کی زبان پر نیکی کا نام اگر کبھی آتا بھی ہے تو صرف خلقِ خدا کو دھوکہ دینے کے لیے! اس خرابی کا علاج صرف یہی ہوسکتا ہے کہ صالحین کی ایک جماعت منظم کی جائے جو خداترس بھی ہو، راست باز اور دیانت دار بھی ہو، خدا کے پسندیدہ اخلاق و اوصاف سے آراستہ بھی ہو اور اس کے ساتھ دنیا کے معاملات کو دنیا داروں سے زیادہ اچھی طرح سمجھے اورخود دنیاداری میں اپنی مہارت و قابلیت سے ان کو شکست دے سکے۔ ہمارے نزدیک اس سے بڑا اور کوئی سیاسی کام نہیں ہوسکتا اور نہ اس سے زیادہ کامیاب سیاسی تحریک اور کوئی ہوسکتی ہے کہ ایسے ایک صالح گروہ کو منظم کرلیا جائے۔ بداخلاق اور بے اصول لوگوں کو دنیا کی چراگاہ میں بس اسی وقت تک چرنے چگنے کی مہلت ہے جب تک ایسا گروہ تیار نہیں ہوجاتا، اور جب ایسا گروہ تیار ہوجائے گا تو نہ صرف آپ کے اس ملک کی بلکہ ساری دنیا کی سیاست اور معیشت اور مالیات اور علوم و آداب اور عدل و انصاف کی باگیں اسی گروہ کے ہاتھ میں آجائیں گی اور فُسّاق و فُجّار کا چراغ ان کے آگے نہ جل سکے گا۔‘‘

(مولانا مودودی کے) اس طرح کے بہت سے ارشادات اور(ان کی) کتابوں نے بے شمار انسانوں کو متاثر کیا۔ ان کا نقطۂ نظر اور زندگی کا رویہ بدل گیا اور کافی لوگوں نے کوشش کی کہ اس معیار پر پورے اتریں۔ انھی میں ایک نمایاں شخصیت تھے جناب مولانا افضل حسین صاحب مرحوم و مغفور، جماعتِ اسلامی ہند کے جنرل سکریٹری۔

ایسے بڑے لوگوں کی وفات کے بعد ان پر جو کچھ لکھا جاتا ہے وہ بالعموم نثر میں قصیدہ ہوتا ہے۔ لیکن ان سطور کی غرض یہ نہیں ہے بلکہ مرحوم کی بعض اچھی صفات کا ذکر اس غرض سے کیا جارہا ہے کہ لوگوں کو، خصوصاً نوجوانوں کو ان جیسا بننے کا حوصلہ ملے۔

مرحوم اپنی ذاتی قابلیت سے تو ایم.اے.، ایل.ٹی. تھے اور انھوں نے درسیات پر بیسیوں کتابیں لکھی ہیں، جو پورے ملک میں اپنا کام کررہی ہیں۔ حتیّٰ کہ جو اختلاف رکھتے ہیں وہ بھی ان سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یہ بات ان کی اعلیٰ تصنیفی صلاحیت کی منہ بولتی دلیل ہے، جن لوگوں نے ان کی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے، ان کا یہ تاثر بیجا نہیں ہے کہ ان کے مصنف کا مطالعہ کتنا وسیع ہے اور ان کا فکر کس قدر سیدھا اور صالح ہے۔ لیکن اس سلسلہ میں چند باتیں قابلِ ذکر اور سبق آموز ہیں۔ مرحوم ایک اچھی پوسٹ پر بڑی تنخواہ پر ملازم تھے۔ اگر چاہتے تو دنیا کی راحت بخش نعمتیں ان کی قدم بوسی کرتیں۔ لیکن ۱۹۴۸ء میں اس مردِ خدا نے ملازمت چھوڑدی اور اپنے کو جماعت کے حوالے کردیا۔ اس زمانے میں بھی صاف ستھرے رہتے تھے اور کوئی شخص ان کی وضع قطع کو دیکھ کر یہ اندازہ نہیں کرسکتا تھا کہ یہ دل آویز شخصیت عسرت کی شکار ہے۔ لیکن ۱۹۵۷ء میں جب کفاف کمیٹی نے ان کی آمد و صرف اور ان کے گھریلو حالات کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ اگر کسی مہینے ان کے یہاں دو چار مہمان آجائیں تو ان کا اس مہینے کا بجٹ متاثر ہوجائے۔ اللہ ان کی اس مردانگی کو قبول فرمائے۔

افضل صاحبؒ کا یہ حال رہا کہ مرکزی مکتبہ اسلامی کی جان ان کی لکھی ہوئی کتابیں تھیں اور اب بھی ہیں، لیکن انھوں نے رائلٹی کا کبھی خیال بھی نہیں کیا۔ان سے اصرارکیا گیا لیکن انھوں نے کبھی نہیں مانا۔ میں بے شمار مجلسوں میں ان کے ساتھ شریک رہا ہوں لیکن مجھے یاد نہیں کہ کبھی انھوں نے برسبیلِ تذکرہ بھی اپنی کتابوں کا ذکر کیا ہو! اللہ اس ظرف کو عام کردے۔ یہی نہیں، ان کے صاحبزادے کئی سال سے امریکہ میں ہیں اور ۱۹۷۷ء تک کا تو مجھے معلوم ہے کہ تیرہ یہودیوں کو وہ دولتِ اسلام سے مالا مال کرچکے تھے مگر مرحوم کی زبان سے میں نے کبھی اس کا ذکر نہیں سنا۔

مرحوم کی محبت عام تھی۔ یہ جو مشہور ہے کہ محبت یک طرفہ نہیں، دو طرفہ ہوتی ہے، اس کی صداقت انھی کے تعلق سے ظاہر ہوئی۔ جب وہ ہاسپٹل میں تھے ان دنوں برادرِ محترم جناب محمد شفیع مونس صاحب کو ان کی جگہ کام کرنا پڑا۔ اس وقت میں نے دیکھا مونس صاحب کا رونا قابو سے باہر ہوگیا۔ مجھ سے بہت بعد میں مرحوم (افضل صاحب) دنیا میں آئے اور مجھ سے پہلے دنیا سے رخصت ہوئے، ان کی یہ جلد بازی میرے لیے بہت تکلیف دہ رہی۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو نور سے بھردے اور اس دنیا میں ان کی سیرت کو عام کردے۔

مرحوم بڑے آدمی ۔ دولت و ثروت کے لحاظ سے بڑے آدمی ۔ نہیں تھے، لیکن میرے خیال میں بڑے سے بڑے آدمی کی رسائی کا ان کی بلندی تک پہنچنا مشکل تھا۔ ایک تنظیم کی دعوت پر امریکہ گئے تو اپنے ٹھنڈے اخلاق کی پگھلتی ہوئی آگ سے بہت سے دلوں میں ٹھنڈی آگ کے شعلے بھڑکا دیے۔ ان کے تعلق سے یہ کہنے میں کوئی مبالغہ نہیں کہ ؂

اس کی امیدیں قلیل اس کے مقاصد جلیل

اس کی ادا دل فریب اس کی نگہ دل نواز

نرم دمِ گفتگو، گرم دمِ جستجو

رزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاک باز

افضل حسین ؒ قائدینِ تحریکِ اسلامی کے احساسات

  • افضل حسینؒ ۔ایثار وقربانی کاپیکر

    انعام الرحمن خاں، بھوپال

    (سابق امیر حلقہ مدھیہ پردیش)

    اس کی امیدیں قلیل،اس کے مقاصد جلیل ۱۹۴۵ء میں مولانا سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ فرمایا تھا: ’’۔۔۔ ہم دراصل ایک ایسا گروہ تیار کرنا چاہتے ہیں جو ایک …

    مزید

  • وہ فنا فی الجماعت ہوگئے تھے

    محمد حسنین سید

    درس گاہ اسلامی، دربھنگہ، بہار

    مولانا افضل حسین صاحب رحمۃ اللہ علیہ سراپا اخلاص اور فنا فی الجماعت تھے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور فردوس میں جگہ دے۔ آمین!

    ان سے میری پہلی ملاقات ۱۹۴۵ء میں پٹنہ میں ہوئی …

    مزید

  • وہ ماں کی طرح مہربان و شفیق تھے

    جناب اعجاز اسلم صاحب

    سکریٹری جماعتِ اسلامی ہند

    میں مولانا سے سب سے پہلے کی ان کی تیار کردہ درسی کتابوں کے ذریعہ متعارف ہوا۔پھر ۱۹۷۷ء میں ریاست تمل ناڈو کی امارت سنبھالنے کے بعد بار بار مرکز آنے کا موقع ملا۔ اس طرح مختلف …

    مزید

  • افضل حسینؒ نے جماعت کی تاریخ بنائی

    سیّد جلال الدین عمری

    سابق مدیر ماہنامہ زندگی نو،نئی دہلی

    ابھی۲۲؍نومبر ۱۹۸۹ء کو مولانا سلمان ندوی مدیر سہ روزہ دعوت اور عربی جریدہ الدعوۃ، (نئی دہلی) کے انتقال کا صدمہ ہم سب لوگوں کو برداشت کرنا پڑا کہ صرف پانچ ہفتے بعد …

    مزید