Latest Updates
TO BUY “ ANY BOOKS” PLEASE CONTACT PUBLISHER

افضل حسین ؒ قائدینِ تحریکِ اسلامی کے احساسات/ افضل حسینؒ نے جماعت کی تاریخ بنائی

سیّد جلال الدین عمری

سابق مدیر ماہنامہ زندگی نو،نئی دہلی

ابھی۲۲؍نومبر ۱۹۸۹ء کو مولانا سلمان ندوی مدیر سہ روزہ دعوت اور عربی جریدہ الدعوۃ، (نئی دہلی) کے انتقال کا صدمہ ہم سب لوگوں کو برداشت کرنا پڑا کہ صرف پانچ ہفتے بعد یکم جنوری ۱۹۹۰ء ؁ کو محترم افضل حسین صاحب، قیم جماعت اسلامی ہند کا سانحۂ ارتحال پیش آگیا۔ادھر چند سال کے عرصہ میں جماعت اسلامی ہند کو بڑی تیزی سے اپنے متعدد قدیم اور صفِ اوّل کے خادموں اور کارکنوں سے محروم ہونا پڑا ہے جس کی وجہ سے ایک خلا سا محسوس ہورہا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی حکمتوں کو کون سمجھ سکتا ہے۔ وہ چاہے تو اس خلا کو بہتر طریقہ سے پُرکرسکتا ہے۔ اس کی قدرت سے کوئی چیز بعید نہیں ہے۔

محترم افضل حسین صاحب قیم جماعت اسلامی ہند کا اس دنیا سے رخصت ہونا جماعت اسلامی ہند کے رفیقوں، اس سے وابستگی رکھنے والوں اور دینی خدمات سے ہمدردی رکھنے والوں کے لیے بہت بڑا حادثہ ہے۔ وہ ان محترم بزرگوں میں سے تھے جنھوں نے ۱۹۴۷ء  کے پُرآشوب دور میں اپنا سب کچھ قربان کرکے اپنے آپ کو جماعت کے حوالہ کیا اور زندگی بھر اس کی خدمت کو اپنے لیے باعث سعادت سمجھا۔ محترم قیم جماعت افضل حسین صاحب نے بیالیس برس تک مختلف محاذوں پر جماعت کی خدمت انجام دی۔ سرد و گرم حالات اور آزمائشوں میں اپنے موقف پر جمے رہے اور اس کے لیے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ وہ اُن چند گنے چنے افراد میں سے تھے جنھوں نے اپنی قربانیوں اور خدمات کے ذریعہ جماعت کی تاریخ بنائی ہے۔

جناب افضل حسین صاحب ضلع بستی کے ایک گاؤں (جانْتے ڈیہا۔دُودھارا) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعدعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی.اے. آنرز کیا اور اس میں امتیازی حیثیت سے کامیابی حاصل کی۔ ایم.اے. آگرہ یونیورسٹی سے کیا۔ پھر بی. ٹی. اور ایل.ٹی. ہوئے۔

تقسیمِ ملک کے بعد جماعت اسلامی ہند نے محسوس کیا کہ یہاں جو نظامِ تعلیم رائج ہورہا ہے وہ مسلمانوں کی آئندہ نسل کو اس کے دین اور اس کی تہذیب سے دور کردے گا۔ وہ اپنی تہذیب اور معاشرت سے صرف یہی نہیں کہ بیگانہ ہوجائے گی بلکہ اس کے اندر احساسِ کمتری پرورش پانے لگے گا اور وہ آہستہ آہستہ اپنی دینی اور ملی خصوصیات سے محروم ہوتی چلی جائے گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ آنے والی اس نسل کو دین سے واقف کرانے اور اس کے احساسِ کمتری کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس کے لیے اس نے ایسے مدارس اور مکاتب کے قیام کا فیصلہ کیا جہاں مسلمان بچوں کو دینی تعلیم مل سکے اور ایسا ماحول انھیں میسر آئے کہ وہ اسلامی اقدارِ حیات سے روشناس ہوسکیں۔ یہ ایک دشوار کام تھا۔ اس لیے اپنے دائرے کے اندر اس طرح کے مدارس و مکاتب کے قیام سے پہلے ایک مثالی درس گاہ قائم کرنے کا اس نے فیصلہ کیا۔ اس فیصلہ کے تحت یہ درس گاہ ملیح آباد میں قائم کی گئی جہاں اس وقت جماعت اسلامی کا مرکز تھا۔ پھر جب جماعت اسلامی کا مرکز رام پور منتقل ہوا تو درس گاہ بھی ملیح آباد سے رام پور منتقل ہوگئی۔ اس مثالی درس گاہ کے نظم کے لیے مرحوم افضل حسین صاحب سب سے زیادہ موزوں سمجھے گئے، وہ ان دنوں جھانسی میں ایک سرکاری ٹیچرس ٹریننگ کالج کے وائس پرنسپل تھے۔ معقول تنخواہ پارہے تھے اور آئندہ ترقی کے امکانات بھی تھے۔ جماعت کی دعوت پر ان سب چیزوں کو ٹھکرا کر وہ ملیح آباد پہنچ گئے اور درس گاہ کا کام سنبھال لیا۔ جماعت نے محسوس کیا کہ اس طرح کی درس گاہ چلانے کے لیے ایک الگ ہی نوعیت کے نصاب کی ضرورت ہے جس میں بالکل ابتدا سے تمام علوم کی اس طرح تعلیم دی جائے کہ بچہ کا ذہن اسلامی رنگ میں رنگتا چلا جائے۔ جناب افضل حسین صاحب نے اس کا بیڑہ اٹھایا اور دو ایک رفیقوں کی مدد سے جونیئر ہائی اسکول تک کا نصاب تیار کرلیا بلکہ بعض کتابیں ہائی اسکول کے معیار کی بھی مرتب کیں۔ اس نصاب میں ایک طرف تو وہ تمام موضوعات شامل تھے جو جدید مدارس میں پڑھائے جاتے ہیں، اور دوسری طرف اس میں اسلامیات کے نام پر قرآن و حدیث کے دو ایک سبجیکٹس نہیں تھے بلکہ پورے نصاب کو جس میں تاریخ اور سیرت سے لے کر جغرافیہ اور ریاضی تک شامل ہے، ہر موضوع کو اسلامی رُخ دینے کی کوشش کی گئی تھی۔ یہ اپنے انداز کی بالکل منفرد کوشش تھی۔ یہ نصاب اپنی زبان و بیان ، طلبہ کی نفسیات اور ان کی تعلیمی ضروریات کی بہترین تکمیل کرتا تھا۔ اس کے تحت تعلیم پانے والا طالب علم، جدید مدارس کے طالب علم سے خود کو کسی طرح کم تر محسوس نہ کرتا تھا اور اپنے اسلامی ذہن اور معلومات کی بناپر اس سے آگے ہوتا۔ اپنی ان خصوصیات کی بنا پر یہ نصابِ تعلیم بہت مقبول ہوا اور جماعت کے قائم کردہ مدارس ہی میں نہیں بلکہ دوسرے مدارس میں بھی اس کا تھوڑا بہت حصہ پہلے بھی شامل تھا اور اب بھی شامل ہے۔ درسیات پر اسلامی نقطۂ نظر سے کسی بھی فرد نے ہمارے اس دور میں اتنا بڑا کام نہیں کیا۔ اب دور دور تک ان کا ثانی نظر نہیں آرہا ہے۔

تعلیم و تربیت کے میدان میں افضل حسین صاحب کا مطالعہ محض نظریاتی نوعیت کا نہیں تھا بلکہ انھوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ اس کے تجربہ میں گزارا۔ ان کی کتاب ’فنِ تعلیم و تربیت‘ میں اس موضوع کے متعلق عام معلومات کے علاوہ ان کے ذاتی تجربات بھی سمٹ کر آگئے ہیں۔ یہ ہماری زبان میں اپنے موضوع پر واحد کتاب ہے۔ اس کی افادیت بلاشبہ عرصۂ دراز تک محسوس کی جاتی رہے گی۔

جماعت ہی کی ضروریات کے تحت وہ تعلیمی شعبہ سے ہٹاکر شعبۂ تنظیم میں لے لیے گئے۔ ایک عرصہ تک معاون قیمِ جماعت رہے۔ پھر قیمِ جماعت کی حیثیت سے ان کا تقرر عمل میں آیا اور آخر وقت تک اسی منصب پر برقرار رہے۔ اس دوران انھوں نے جماعت کی، جس کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا جارہا تھا، تنظیم اور تربیت کے پہلو سے غیر معمولی خدمات انجام دیں۔

وہ مجلسِ مشاورت ، پرسنل لا بورڈ اور بابری مسجد رابطہ کمیٹی کے ممبر اور جماعت کے نمائندے تھے۔ وہ ان لوگوں میں نہیں تھے جو معاملات پر غور کرتے وقت جذبات کی رو میں بہہ جاتے ہیں بلکہ مسائل پر وہ ٹھنڈے طریقہ سے سوچتے اور کسی نتیجہ پر پہنچنے کی کوشش کرتے۔ وہ خطیب و مقرر نہیں تھے لیکن اپنی بات نرمی اور آہستگی کے ساتھ پیش کرتے اور اس کے حق میں دلائل فراہم کرتے تھے۔ اپنی رائے پر بے جا اصرار نہ کرتے، کسی مجلس میں نمایاں ہونے کی کوشش نہ کرتے بلکہ ممکن حد تک نام و نمود سے بچتے تھے۔ ان کی کم گوئی اور خاموشی کی وجہ سے بسا اوقات ان کی عظمت محسوس نہیں کی جاتی تھی لیکن وہ اس سے بے نیاز اپنا فرض ادا کرتے رہتے تھے۔

مرحوم ادارۂ تحقیق و تصنیفِ اسلامی علی گڑھ کے تاسیسی ارکان میں سے تھے۔ ان کی یہ تمام خوبیاں ادارہ کی نشستوں میں بھی دیکھنے میں آتی تھیں۔ جن اداروں سے وہ وابستہ رہے وہ سبھی ادارے ان کی خوبیوں کو فراموش نہ کرسکیں گے۔ عرصہ تک برابر ان کی یاد آتی رہے گی۔ مرکز جماعت اسلامی ہند ملک کی اور جماعتی ضروریات کے تحت لٹریچر کی تیاری کا فیصلہ کرتا ہے۔ کچھ موضوعات مجھ سے متعلق رہے ہیں، ان کے سلسلے میں مرحوم سے گفتگو ہوتی رہتی تھی۔ بعض موضوعات سے انھیں خاص دلچسپی تھی۔رام پور میں قیام کے دوران انھوں نے بار بار اس طرف توجہ دلائی کہ آسان زبان میں دعوت پر ایک ایسی جامع کتاب تیار ہونی چاہیے جس میں اس موضوع کا پورا احاطہ ہو۔ میری کتاب ’اسلام کی دعوت‘ اسی مقصد کے تحت لکھی گئی۔ خدا کا شکر ہے کہ کتاب بہت مقبول ہوئی۔ ہندوستان اور پاکستان دونوں جگہ سے شائع ہوئی۔ کہیں کہیں یہ کتاب تربیتی کورس میں بھی شامل ہے۔

اقوام متحدہ نے ۱۹۷۵ء  کو عورتوں کا سال قرار دیا تھا۔ جماعت اسلامی نے فیصلہ کیا کہ اس سال میں اس بات کی خاص طور پر کوشش کی جائے کہ اسلام نے عورت پر جو احسانات کیے اور اس کے نتیجے میں اس نے جو ترقی کی اسے نمایاں کیا جائے۔ اس سلسلے میں خاکسار کو ایک مختصر کتاب تیار کرنے کا حکم دیا گیا۔ ’’عورت اور اسلام‘‘اسی حکم کی تعمیل کی کوشش تھی۔ اس کی ترتیب اور خدوخال متعین کرنے میں مرحوم کے مشورے شامل تھے۔ (ایمرجنسی کی وجہ سے جماعت کے اس پروگرام پر عمل نہیں ہوسکا اور کتاب بھی ۱۹۷۹ء  میں شائع ہوئی۔) اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کو مقبولیت عطا کی۔ ہندی اور انگریزی میں بھی اس کا ترجمہ ہوچکا ہے۔

مرحوم کو خدمتِ خلق کے موضوع سے بھی بڑی دلچسپی تھی۔ جماعت کے پروگرام میں اس پر ایک مفصل کتاب کی تیاری شامل ہے۔ میں نے اس موضوع پر ماہ نامہ زندگیِ نو میں ایک مقالہ لکھا تو مرحوم نے اور سابق ایڈیٹر دعوت محترم محمد مسلم مرحوم نے اسے بہت پسند فرمایا۔ ۱۹۷۸ء ؁ میں یہ مقالہ کتابچہ کی شکل میں مرکزی مکتبہ سے شائع ہوا۔ پاکستان سے بھی اس کی اشاعت عمل میں آئی۔ اب میں نے اس موضوع پر ایک مفصل کتاب مرتب کی ہے۔ اللہ کی مرضی کہ اس کی اشاعت سے پہلے وہ اپنے رب سے جاملے۔ ان کی زندگی میں یہ کتاب شائع ہوتی تو میرا خیال ہے کہ وہ بڑی مسرت محسوس فرماتے۔

افضل حسین صاحب نے ایک مومن کی طرح بہت سادہ طبیعت پائی تھی۔ انھیں غصہ بہت کم آتا تھا۔ اگر کبھی خفا بھی ہوتے تو زیادہ دیر تک ان کی خفگی باقی نہ رہتی۔ فوراً اس کا اثر زائل ہوجاتا۔ ہر ایک کی طرف سے ان کا دل صاف رہتا، کبھی کسی سے کدورت، نفرت اور عناد نہیں رکھتے تھے۔ اپنے رفیقوں کے ساتھ حسنِ ظن سے کام لیتے۔اپنی فطری نیکی اور شرافت کی وجہ سے لوگوں کی کمزوریوں اور خامیوں کی بھی اچھی سے اچھی توجیہ کرنے کی کوشش کرتے۔ سب سے بے تکلف رہتے۔ ہر شخص محسوس کرتا کہ وہ اس سے دل کھول کر بات کررہے ہیں اور اس کی باتوں کی طرف توجہ دے رہے ہیں۔چھوٹوں کے ساتھ بھی ان کا یہی رویہ تھا۔ جس زمانہ میں وہ درس گاہ کے ناظم اور ذمہ دار تھے کسی طالب علم پر سختی کو پسند نہیں کرتے تھے۔ ہر طالب علم سے پیار اور محبت سے پیش آتے۔ کسی طالب علم کی کوتاہی پر تنبیہہ بھی کرتے تو انداز ایسا ہوتا کہ اس میں ضد اور ہٹ دھرمی یا ان کے خلاف نفرت کے جذبات نہیں پیدا ہوتے تھے۔ طالب علم بھی ان سے خوف نہیں محسوس کرتے تھے۔ بلکہ محبت اور احترام کرتے تھے۔ اسٹاف کے افراد کے ساتھ مساویانہ سلوک کرتے۔ کسی میں یہ احساس نہ پیدا ہونے دیتے کہ وہ ماتحت ہے اور وہ اس کے حاکم ہیں۔

وہ کوئی مضبوط صحت کے مالک نہیں تھے لیکن اس کے باوجود غیر معمولی محنت کے عادی تھے۔ جس زمانہ میں وہ مرکزی درس گاہ کے ناظم تھے ، درس گاہ کے اوقات کے بعد تھک کر بیٹھ نہیں جاتے تھے یا اپنے گھر کے کام کاج میں کھو نہیں جاتے تھے بلکہ درسیات کی تیاری میں جی جان سے اس طرح لگ جاتے جیسے اسی کام کے لیے فارغ ہوں۔ رات میں دیر تک اس کام میں مصروف رہتے۔ دن میں بھی اسی دھن میں رہتے۔ اپنے ساتھیوں اور دوستوں سے مختلف موضوعات پر مشورے کرتے اور ان سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے۔ ان کے اوقات خالی نہیں رہتے تھے بلکہ وہ ان کا بھر پور استعمال کرنے کے عادی تھے۔ مرکز میں معاون قیم جماعت اور قیمِ جماعت بننے کے بعد ان کی مصروفیات میں اور اضافہ ہوگیا تھا۔ دن کے اوقات کے علاوہ رات میں بھی کافی دیر تک دفتر میں موجود رہتے۔ جماعت کے کام سے جیسے انھیں قلبی راحت محسوس ہوتی ہو۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جو کسی مقصد کو اختیار کرنے کے بعد اس کے لیے اپنی تمام قوتیں نچوڑ دیتے ہیں۔

جماعت کے لیے مرحوم کی قربانیاں فراموش نہیں کی جاسکتیں۔ جماعت کے ابتدائی دور میں مرکز کے اور رفقاء کے ساتھ انھوں نے بڑی عسرت کی زندگی گزاری لیکن مقصد کی دھن میں انسان کو شاید تنگ دستی اور مشکلات کا احساس کم ہوجاتا ہے۔ انھوں نے اسی تنگ دستی میں اتنی زبردست خدمات انجام دیں کہ بہت سے لوگ آسائش و راحت میں بھی انجام نہیں دے پاتے۔ انھوں نے درسیات کی بیسیوں کتابیں مرتب کیں۔ اس کی رائلٹی سے وہ نسبتاً بہتر زندگی گزارسکتے تھے لیکن کبھی اس کا ذکر بھی ان کی زبان سے سننے میں نہیں آیا۔ وہ مرکز سے اس طرح وابستہ ہوئے کہ وطن ، مکان، زمین اور جائداد کی یاد بھی شاید انھیں کم آتی تھی۔ اس طرح اپنے مقصد میں فنا ہونے والے افراد ہی تحریکوں کی جان ہوتے ہیں، انھی سے تحریکیں چلتی ہیں۔

ادھر دن بدن تعلق باللہ کی کیفیت میں بھی اضافہ محسوس ہورہا تھا۔ عبادات سے شغف بہت بڑھ گیا تھا، ہر وقت باوضو رہتے اور وضو کے بعد خیال ہوتا ہے کہ سیدنا حضرت بلالؓ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے دو رکعت نفل نماز بھی پڑھ لیا کرتے تھے۔ تہجد کے پابند تھے اور اوراد وظائف کا اہتمام ہونے لگا تھا۔ دعا کرتے تو خشوع و خضوع اور تضرع کے ساتھ کرتے۔

انتقال سے دو تین ماہ پہلے بیمار ہوئے۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا مرض پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتا چلا گیا۔ اس دوران میں دو مرتبہ آپریشن کے مراحل سے بھی انھیں گزرنا پڑا۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کبھی بندے کو بہت اونچا مقام دینا چاہتا ہے لیکن بندہ اپنے عمل کے ذریعہ وہاں پہنچ نہیں پاتا، ایسی صورت میں وہ اسے کسی مرض میں مبتلا کردیتا ہے تاکہ اس کے ثواب سے وہ اس مقام تک پہنچ جائے۔ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کو ہم نہیں جانتے لیکن کوئی تعجب نہیں کہ اللہ کے اس نیک بندے کو اس کے شدید مرض نے اونچے اور بہت اونچے مقام تک پہنچا دیا ہو۔

أللّٰہُمَّ اغْفِرْلَہٗ وَارْحَمْہٗ وَأکْرِمْ نُزُلَہٗ یَا أرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ.

افضل حسین ؒ قائدینِ تحریکِ اسلامی کے احساسات

  • افضل حسینؒ ۔ایثار وقربانی کاپیکر

    انعام الرحمن خاں، بھوپال

    (سابق امیر حلقہ مدھیہ پردیش)

    اس کی امیدیں قلیل،اس کے مقاصد جلیل ۱۹۴۵ء میں مولانا سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ فرمایا تھا: ’’۔۔۔ ہم دراصل ایک ایسا گروہ تیار کرنا چاہتے ہیں جو ایک …

    مزید

  • وہ فنا فی الجماعت ہوگئے تھے

    محمد حسنین سید

    درس گاہ اسلامی، دربھنگہ، بہار

    مولانا افضل حسین صاحب رحمۃ اللہ علیہ سراپا اخلاص اور فنا فی الجماعت تھے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور فردوس میں جگہ دے۔ آمین!

    ان سے میری پہلی ملاقات ۱۹۴۵ء میں پٹنہ میں ہوئی …

    مزید

  • وہ ماں کی طرح مہربان و شفیق تھے

    جناب اعجاز اسلم صاحب

    سکریٹری جماعتِ اسلامی ہند

    میں مولانا سے سب سے پہلے کی ان کی تیار کردہ درسی کتابوں کے ذریعہ متعارف ہوا۔پھر ۱۹۷۷ء میں ریاست تمل ناڈو کی امارت سنبھالنے کے بعد بار بار مرکز آنے کا موقع ملا۔ اس طرح مختلف …

    مزید

  • افضل حسینؒ نے جماعت کی تاریخ بنائی

    سیّد جلال الدین عمری

    سابق مدیر ماہنامہ زندگی نو،نئی دہلی

    ابھی۲۲؍نومبر ۱۹۸۹ء کو مولانا سلمان ندوی مدیر سہ روزہ دعوت اور عربی جریدہ الدعوۃ، (نئی دہلی) کے انتقال کا صدمہ ہم سب لوگوں کو برداشت کرنا پڑا کہ صرف پانچ ہفتے بعد …

    مزید