Latest Updates
TO BUY “ ANY BOOKS” PLEASE CONTACT PUBLISHER

پیشِ گفتار

تحریک اسلامی کے ابتدائی دور میں جو شخصیتیں بھی اس سے پوری طرح وابستہ ہوئیں وہ سب اپنی اپنی جگہ لعل و گہر تھیں۔ ان کے درمیان آپس میں کسی خاص پہلو سے ایک دوسرے پر فوقیت اور افضلیت ضرور تھی ، لیکن بحیثیت مجموعی جو ذرہ جہاں تھا آفتاب تھا۔

جماعت اسلامی کی اگلی صف کے ان بزرگوں میں ایک نام افضل حسین مرحوم کا بھی ہے جن کی خدمات کا فطری میدان تعلیم و تدریس اور بعد میں تنظیم رہا۔ ان کے انتقال کے بعد دونوں پہلوؤں سے ان کے کارناموں اور کارگزاریوں کا ذکر کیا گیا ہے اور آئندہ بھی کیا جاتا رہے گا۔ یہ کارنامے ایسے ہیں جن کو تحریک اسلامی کبھی فراموش نہیں کرسکتی ہے۔ رہا ان کے کردار کا خصوصی پہلو تو ان کی ذات میں ریشم کی سی نرمی اور جنتی پھول کے رس سے تیار ہونے والی شہد کی خاص مٹھاس تھی جو ان کو دوسروں سے ممتاز کرتی تھی۔ سچی بات یہ ہے کہ نرم گفتاری، شیریں کلامی اور مٹھاس تو میں نے بہت کم لوگوں میں دیکھی اور ان میں بھی بیشتر لوگوں کے یہاں ایک اُتار چڑھاؤ پایا۔ لیکن افضل صاحب مرحوم کی خوبی یہ تھی کہ وہ سب کے لیے یکساں میٹھے اور نرم تھے۔ یہ ان کی فطرت کا حصہ بن چکی تھی۔ چنانچہ غصہ کی حالت میں ان کی مٹھاس اور بڑھ جاتی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اظہارِ محبت کے کلائمکس کا دوسرا نام ان کے یہاں غصہ تھا۔ اس حالت میں ان کی معصومیت اور نکھر جاتی تھی اور ان پر پیار آجاتا تھا۔ وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ وَاللّہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ*کی یہ سطح ان کی شان ولایت کی دلیل ہے۔

یاد آتا ہے ایک دفعہ کسی مسئلے پر ہمارے ایک پرجوش ساتھی احتجاج کے انداز میں اُن کے ساتھ گرمئ گفتار کا مظاہرہ کرنے لگے۔ مرحوم نے بڑی شفقت کے ساتھ ان کی بلائیں لیں، چمکارتے ہوئے دوبارہ سر پر بزرگانہ محبت کے ساتھ ہاتھ پھیرا اور سمجھانے لگے۔ یہ دیکھ کر مجھے افسوس ہوا کہ خواہ مخواہ میں با ادب رہا، تھوڑی گستاخی کی حد تک شوخی بھی کرلیتا تو ان کے چمکار اور پیار سے محروم نہیں رہتا۔

مرحوم کے یہاں ہر کام کو سلیقہ سے انجام دینے کا ایک ہنر اور لگن تھی۔ اسی طرح انھیں ہر رشتے کو برتنے اور ہر مسئلے کو احسن طریقے سے انجام دینے کا اللہ تعالیٰ نے خاص ملکہ دیا تھا۔ چتلی قبر کے مرکز جماعت میں کئی بار دروازے پر آمنا سامنا ہوجاتا تھا۔ گورا رنگ، سڈول قد و قامت، موزوں چہرہ اور اس پر دل سے اُگی ہوئی گھنی داڑھی، سرمہ لگانے اور پان کھانے کا خاص شوق، اسی کے ساتھ مشرقی وضع داری اور ملنے ملانے میں ایک اپنا پن پایاجاتا تھا۔

مجھے خوشی ہے کہ ان کے صاحبزادے قمر افضل طلعت صاحب خصوصی دلچسپی لے کر ان کی زندگی کے بکھرے ہوئے اوراق کو ایک جگہ جمع کرکے شائع کررہے ہیں۔ یقیناًیہ کتاب نئی نسل کے لیے نیک زندگی جینے کا ہنر سیکھنے میں معاون ہوگی۔ اور رشتوں کے بازاری پن کے اس دور میں رشتوں کی مٹھاس کا سبق سیکھنے اور تحریکی تعلقات کے آبگینے کی حفاظت کا درس دے گی۔ اس طرح مرحوم کے ذکر خیر کا ذریعہ بن کر آخرت کا توشہ ہوگی۔

ڈاکٹر حسن رضا

صدر ادارۂ ادب اسلامی ہند

و سابق صدر شعبہ اردو، رانچی یونیورسٹی

افضل حسین ؒ قائدینِ تحریکِ اسلامی کے احساسات

  • افضل حسینؒ ۔ایثار وقربانی کاپیکر

    انعام الرحمن خاں، بھوپال

    (سابق امیر حلقہ مدھیہ پردیش)

    اس کی امیدیں قلیل،اس کے مقاصد جلیل ۱۹۴۵ء میں مولانا سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ فرمایا تھا: ’’۔۔۔ ہم دراصل ایک ایسا گروہ تیار کرنا چاہتے ہیں جو ایک …

    مزید

  • وہ فنا فی الجماعت ہوگئے تھے

    محمد حسنین سید

    درس گاہ اسلامی، دربھنگہ، بہار

    مولانا افضل حسین صاحب رحمۃ اللہ علیہ سراپا اخلاص اور فنا فی الجماعت تھے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور فردوس میں جگہ دے۔ آمین!

    ان سے میری پہلی ملاقات ۱۹۴۵ء میں پٹنہ میں ہوئی …

    مزید

  • وہ ماں کی طرح مہربان و شفیق تھے

    جناب اعجاز اسلم صاحب

    سکریٹری جماعتِ اسلامی ہند

    میں مولانا سے سب سے پہلے کی ان کی تیار کردہ درسی کتابوں کے ذریعہ متعارف ہوا۔پھر ۱۹۷۷ء میں ریاست تمل ناڈو کی امارت سنبھالنے کے بعد بار بار مرکز آنے کا موقع ملا۔ اس طرح مختلف …

    مزید

  • افضل حسینؒ نے جماعت کی تاریخ بنائی

    سیّد جلال الدین عمری

    سابق مدیر ماہنامہ زندگی نو،نئی دہلی

    ابھی۲۲؍نومبر ۱۹۸۹ء کو مولانا سلمان ندوی مدیر سہ روزہ دعوت اور عربی جریدہ الدعوۃ، (نئی دہلی) کے انتقال کا صدمہ ہم سب لوگوں کو برداشت کرنا پڑا کہ صرف پانچ ہفتے بعد …

    مزید