Latest Updates
TO BUY “ ANY BOOKS” PLEASE CONTACT PUBLISHER

افضل حسین ؒ قائدینِ تحریکِ اسلامی کے احساسات/ وہ فنا فی الجماعت ہوگئے تھے

محمد حسنین سید

درس گاہ اسلامی، دربھنگہ، بہار

مولانا افضل حسین صاحب رحمۃ اللہ علیہ سراپا اخلاص اور فنا فی الجماعت تھے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور فردوس میں جگہ دے۔ آمین!

ان سے میری پہلی ملاقات ۱۹۴۵ء میں پٹنہ میں ہوئی تھی۔ تقسیمِ ہند سے پہلے بہار کے المناک فساد کے بعد مظلومین کی امداد کے لیے پٹنہ میں ریلیف کیمپ قائم کیا گیا تھا۔ دارالاسلام پٹھان کوٹ سے مولانا عبدالجبار غازی صاحب کومولانا مودودیؒ نے ناظم ریلیف بناکر پٹنہ بھیجا تھا اور مولانا مسعود عالم صاحب ندوی کو ناظمِ تربیت بناکر بھیجا تھا۔ مظلومین کے لیے مالی امداد کی اپیل کے ساتھ پورے ہندوستان سے رفقاءِ جماعت اسلامی سے بھی اپیل کی گئی تھی کہ جن کے لیے ممکن ہو، اپنے صرفہ پر ایک مہینے کے لیے پٹنہ آئیں اور مظلومین کی ممکنہ خدمت کریں۔ اس اپیل پر صوبہ سرحد (پنجاب) سے مدراس تک اور بمبئی سے بنگال تک کے رفقاءِ جماعت آئے۔ اول پندرہ دنوں میں ان کی علمی و عملی تربیت ہوتی تھی۔اور پندرہ دنوں کے بعد پٹنہ کے علاوہ دیگر فساد زدہ مقامات پر جاکر جانی و مالی نقصانات کا سروے کرتے اور سروے کیے گئے مقامات پر ممکنہ امداد پہنچاتے تھے۔ اس موقع پر ریلیف کی خدمات انجام دینے افضل حسین صاحب بھی تشریف لائے۔ وہ اس وقت کسی مقام پر ایجوکیشنل ٹریننگ کالج میں لکچرر تھے۔ ملاقات کے وقت بتایا کہ میں آپ کو غائبانہ پہلے سے جانتا ہوں۔ آپ کا جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے مرتب کردہ ’’جوہرِ اقبال‘‘ پڑھ کر علی گڑھ سے بی.اے. کاامتحان دیا تھا۔ تو میں نے تفریحاً کہا تھا کہ تب تو آپ میرے بالواسطہ شاگرد ہوئے۔ حسبِ عادت (وہ) ہنس پڑے۔

تقسیمِ ہند کے بعد جماعتِ اسلامی بھی تقسیم ہوکر (دوبارہ) منظم ہوئی اور بالکل ابتدا ہی میں غالباً ۱۹۴۸ء میں جماعتِ اسلامی ہند کا مرکزِ اول ملیح آباد، لکھنؤ قائم ہوا۔۱؂ اس وقت جماعتِ اسلامی ہند کے پیشِ نظر مسلمان بچوں کی تعلیم وتربیت کی اہمیت اتنی تھی کہ مولانا مودودیؒ کے پیش کردہ تعلیم و تربیت کے خاکے کے مطابق اس پر عملی تجربہ کے لیے انتہائی بے سروسامانی میں مرکزی درسگاہ جماعت اسلامی ملیح آباد (یو.پی. میں) قائم کی گئی۔ اس خاکے میں رنگ بھرنے کے لیے افضل حسینؒ کو موزوں سمجھا گیا۔ ان سے خواہش کی گئی کہ اپنی ملازمت سے سبکدوش ہوکر، اس منصوبے کو عملی جامہ پہنائیں۔ انھوں نے دل و جان سے بلا عذر اور بلا جھجک اپنی خدمات پیش کردیں۔

میں اپنے بڑے لڑکے محمد حسین ذوالقرنین سلمہٗ کو (جو ابھی وامی WAMIریاض میں ہیں) اس درسگاہ میں داخل کرانے گیا تو مرکزی درس گاہ جماعتِ اسلامی کو اس حال میں پایا کہ ۱۵235۲۰ فٹ کے گھاس پھوس کے عارضی چھپر کے نیچے افضل حسین صاحب کمال سادگی سے لنگی اور قمیص پہنے مٹی کے تودہ پر بیٹھے ہیں۔ ایک کرسی بھی میسر نہیں ہوئی تھی۔ اور ۲۰۔۲۵ بچے ان کے دونوں طرف بوریے پر بیٹھے تھے۔ محمد شفیع مونس صاحب اور عبدالحمید خاں صاحب بھی ان کے رفقاءِ کار تھے۔ کچھ دنوں کے بعد درس گاہ ملیح آباد سے رام پور، مینائی منزل میں منتقل ہوگئی۔ پھر کچھ دنوں کے بعد اللہ نے افضل حسین صاحب اوران کے رفقاءِ کار کے خلوص کو قبول کیا۔ ایک صاحبِ خیر محمد فیاض صاحب (بیڑی والے) نے موجودہ عالی شان دو منزلہ عمارت تعمیر کراکے پیش کی۔ پھر جدید طرز کے تمام تعلیمی سامان سے مزین کمرے میں افضل حسین صاحب کو براجمان پایا۔ ان کو ملیح آباد کے گھاس پھوس کی چھپر کی یاد دلائی اورہم لوگوں نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ افضل صاحب ناظمِ درس گاہ بھی تھے، صدرِ مدرس بھی تھے اور درجوں میں استاد بھی تھے۔ ننھے ننھے بچوں کے اتالیق بھی تھے اور حسبِ ضرورت ہر موضوع پر درسیات کے مرتب اور مصنف بھی تھے۔ گویا فنا فی درس گاہ تھے۔

باصلاحیت مردانِ کار کی کمی اور جماعت کے اہم تر فرائض کی انجام دہی کے لیے ان کو مرکزی درس گاہ سے مرکزِ جماعت اسلامی دہلی میں معاون قیمِ جماعت اسلامی کی حیثیت سے طلب کرلیا گیا۔ پھر قیمِ جماعت کی ذمہ داری ان کو سونپی گئی (اور) آخر دم تک وہ قیمِ جماعت رہے، اب وہ فنا فی الجماعت ہوگئے۔ فجر کی نمازِ باجماعت کے بعد سے عشاء کے بعد تک وہ جماعت کے کاموں میں مصروف رہتے۔ پتہ نہیں وہ کتنے گھنٹے سوپاتے تھے! قیم صاحب کی حیثیت سے دفتر کی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے پورے ہندوستانی رفقاءِ جماعت سے خطوں کے ذریعے رابطہ رکھنا اور ہدایات دینا، ملک اور بیرونِ ملک سے آنے والے مہمانوں سے ملاقات اور بات چیت ان کا معمول تھا۔ فجر کی نماز جامع مسجد دہلی میں پڑھتے، اس کے بعد جامع مسجد سے نکل کر پارکوں کا چکر لگاکر اپنی قیام گاہ میں لوٹتے کہ یہی موقع ہوتا ان سے ملاقات اور بات چیت کا۔

SIO(Students Islamic Organization of India) کی بنگلور میں منعقدہ گزشتہ ۱۹۸۶ء کی کل ہند کانفرنس کے بعد پورے کرناٹک کا دعوتی اور تفریحی پروگرام بنا۔ ایک منی بس ۲۲؍نشستوں کی حاصل کی گئی، اس میں جماعت کے مرکزی حضرات اور امرائے حلقہ تھے۔ مجھ کو بھی اس میں جگہ مل گئی۔ اور خوش قسمتی سے میری نشست افضل صاحب کے ساتھ تھی۔ میری داہنی طرف وہ تھے۔ اگرچہ چلتی ہوئی بس میں مشاعرہ بھی ہوتا۔ جناب سراج الحسن صاحب میرِ کارواں تھے اور اس وقت قائم مقام امیرِ جماعت بھی تھے۔ وہ کرناٹک کے تاریخی اور تفریحی مقامات کا تعارف بھی کراتے جاتے تھے۔ اس دس روزہ یا ہفت روزہ پروگرام میں بس میں افضل صاحب سے بات چیت کا موقع بھی ملتا رہا۔ انھوں نے فرمایا کہ اب جماعت میں ارکانِ جماعت کی تعداد کم نہیں ہے اور باصلاحیت لوگوں کی کمی بھی نہیں ہے۔ ایک سے ایک دانشور، مقرر اور محرر ہیں۔ زوردار تقریریں کرتے ہیں، مضامین اور کتابیں لکھتے ہیں۔ مگر دورِ اول کی طرح کوئی اپنے آپ کو ہمہ وقتی خدمات پیش کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔

آپ نے بہار سے مرکز کو بہت سے کارکن دیے (مگر صورتِ حال یہ ہے کہ) مرکز میں جو اسامیاں خالی ہوتی ہیں، پُر نہیں ہوپا رہی ہیں، پھر کچھ لوگوں کو دیجیے۔ میں نے کہا: اب آپ کو بہار سے اسامی (اسٹاف) نہیں مل سکتے۔ اول تو آپ نے (یعنی مرکز نے) بہاریوں کی کما حقہ قدر نہیں کی، اب بہار میں بھی اسامی تیار ہونے بند ہوگئے ہیں۔ خود بہار میں امیرحلقہ، اور نظمائے علاقہ اور کمشنری کی ضرورت ہے۔ مجلسِ نمائندگان اور مرکزی شوریٰ میں دو نمبر کے ارکانِ جماعت کا آجانا اچھا نہیں ہوا۔ یہ سرکاری ملازمین، یونیورسٹیوں کے اساتذہ، جماعت کے نوجوانوں کے لیے اب بھی نمونہ ہیں۔(اور ان کی یہ سوچ بنی ہے کہ) اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے سرکاری ملازمت اور یونیورسٹیوں اور کالجوں میں ملازمت حاصل کرو، پھر رکنِ جماعت بن جاؤ اور پھر جتنا موقع ملے اتنا ہی کام کرو۔

لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْساً إِلَّا وُسْعَھَا۔ (الآیۃ) جماعت کو اپنی ہمہ وقتی خدمات پیش کرکے جماعت کے قلیل معاوضہ پر پوری زندگی کھپانا کہاں کی دانش مندی ہے! فاروق (خان) صاحب یا کوئی کہا کرے ؂ طوافِ شمع کرتا ہے مگر جو جاں نہیں دیتا محبت کی زباں میں اس کو پروانہ نہیں کہتے اس پر کسی نے گرہ لگائی: رکن بن جاتا ہے لیکن چاکری بھی کرتا ہے جماعت کی زباں میں اس کو ہم دانا نہیں کہتے

میں نے جب جامعہ ملیہ کا آخری امتحان (بی.اے.) دیا تو استاذنا و مخدومنا ڈاکٹرذاکر حسین رحمۃ اللہ علیہ اس وقت (جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شیخ الجامعہ) میرے کمرے میں تشریف لائے اور فرمایا: تعلیم سے فراغت کے بعدکیا ارادہ ہے؟ میں نے عرض کیا کہ نتیجہ بھی تونکلے۔ انھوں نے فرمایا کہ نتیجہ تو کچھ نکل ہی جائے گا۔ میں نے عرض کیا کہ جب جامعہ میں تعلیم حاصل کی ہے اور آپ حضرات نے انگریزوں کی غلامی سے متنفر کردیا ہے تو کچھ نہ کچھ قوم ہی کی خدمت کروں گا۔ انھوں نے فرمایا: یہ تو بہت غیر واضح بات ہے۔ میں نے کہا کہ دربھنگہ (بہار) جاکر کسی تعلیمی ادارے سے منسلک ہوجاؤں گا۔ اور ایک ماہانہ پرچہ نکالوں گا جو دینی اور اصلاحی پرچہ ہوگا۔ یہ سن کر وہ خاموش ہوگئے۔ وہ چاہتے تھے کہ میں اپنی خدمات جامعہ کو پیش کردوں اور شعبۂ تعلیم و ترقی جس کے نگراں جناب شفیق الرحمن قدوائی تھے، ان کے ساتھ کام کروں۔ چنانچہ دربھنگہ آکر کسی مسلم ادارے سے منسلک ہونا چاہا، اس وقت مسلم لیگ کا زور شباب پر تھا۔ یہ ۱۹۴۰ء کی بات ہے۔ میرے بارے میں یہ گمان کیا گیا کہ جامعہ کے تعلق سے میں ایک کانگریسی فکر کا ہوں گا۔ لہٰذا کسی مسلم تعلیمی ادارے نے مجھ کو قبول نہیں کیا۔ ایسے میں ڈسٹرکٹ بورڈ کے تحت ایک مڈل انگلش اسکول میں ہیڈ ماسٹر کی جگہ مل گئی۔ اس کے بعد اگست ۱۹۴۱ء میں جماعتِ اسلامی بنی، اس کا دستور اور رودادِ تشکیل جماعت نظر سے گزری۔ ایسا محسوس ہوا کہ میری دلی تمنّا برآئی، اور بلا جھجک میں نے اپنے آپ کو جماعت کی رکنیت کے لیے پیش کردیا۔ جس اسکول سے میں وابستہ ہوگیا تھا، وہ غیر مسلموں کی بستی میں تھا۔ وہاں پر مسلمان آبادی بالکل نہ تھی، چنانچہ میں نے دعوتی جذبے سے اسکول سے علیحدگی اختیار کرکے لہریا سرائے دربھنگہ میں ’’مکتبِ اسلامی‘‘ قائم کرلیا، اور اس کے ساتھ ہی ’’حلقہ طلبہ اسلامی بہار‘‘ بھی قائم کرلیا۔

اکتوبر ۱۹۴۳ء میں مشرقی ہند کا اجتماع مولانا مودودیؒ کی خواہش پر دربھنگہ میں ہوا۔ اس میں شرکت کے لیے وہ تشریف لائے۔ اس موقع پر انھوں نے خواہش ظاہر کی کہ اپنے قائم کردہ مکتبِ اسلامی کو کسی کے حوالے کردوں یا اس کو سمیٹ دوں، اور جماعتِ اسلامی کے ہمہ وقتی کارکن کی حیثیت سے اپنے آپ کو پیش کردوں اور پٹنہ میں جاکر جماعت کا صوبائی دفتر قائم کروں۔ چنانچہ میں نے مکتب اسلامی کو اپنے چھوٹے بھائی کے سپرد کیا اور پٹنہ میں جاکر ۱۹۴۴ء میں جماعتِ اسلامی کا صوبائی دفتر قائم کیا۔ اس وقت مولانا نے میرا کفاف ۵۰؍روپے ماہانہ تجویز کیا۔ شروع میں جماعت کے فکروخیال کے لوگوں کے اندر سرکاری ملازمت سے شدید بیزاری پیدا ہوچکی تھی اور رکنِ جماعت ہونے کے بعد بہت سے لوگوں نے سرکاری ملازمت سے اور وکالت کے پیشے سے علیحدگی اختیار کرلی اور جو ملازم رہا بھی تو اس (بات) کے لیے آمادہ ہوتا کہ جیسے ہی کوئی متبادل معاش کی صورت پیدا ہوجائے سرکاری ملازمت سے علیحدگی اختیار کرلے۔ ابتدائی دور میں اس وقت کے نصب العین کے مطابق حکومتِ الٰہیہ کے قیام کے لیے جدوجہد کے ساتھ طاغوتی نظام سے بیزاری بھی پیدا کی جاتی تھی۔ اسکول اور کالج کو بقول اکبر الہ آبادی قتل گاہ سمجھا جانے لگا ؂

یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا

افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی

ایک اسکول کے کم سن طالب علم (عبدالمعز منظر) جو اب ڈاکٹر و پروفیسر ہیں، مولانا مودودیؒ کی کتاب ’’خطبات‘‘ پڑھ کر اتنے متاثر ہوئے کہ والدین کی اجازت و علم کے بغیر (جماعت کے اولین مرکز) دارالاسلام پٹھان کوٹ کا رخ کیا۔ مغل سرائے پہنچنے کے بعد ان کو احساس ہوا کہ مودودیؒ پوچھیں گے کہ والدین کی اجازت لے کر آئے ہو؟ تو میں کیا جواب دوں گا! (چنانچہ وہ) مغل سرائے سے واپس لوٹ آئے اور اپنے والد سے پٹھان کوٹ جانے کی اجازت چاہی۔ ان کے والد کو معلوم ہوا کہ جماعت کا آفس پٹنہ میں ہے، چنانچہ ان کو لے کر وہ میرے پاس پٹنہ جماعت کے دفتر آئے۔ میں نے ان کو مشورہ دیا کہ ابھی دارالاسلام (پٹھان کوٹ) میں تعلیم کا انتظام نہیں ہوسکا ہے، لہٰذا وہ اپنے اسکول میں تعلیم جاری رکھیں اور مجھ سے ملتے رہیں۔ (اسی اثناء میں) ایک اور صاحب (نسیم احمد) جو بہار کے اس وقت کے فساد سے متاثر بھی ہوئے تھے اور ان کے خاندان کے اکثر افراد شہید ہوگئے تھے، جماعت کا لٹریچر پڑھنے کے بعد وہ بھی پٹھان کوٹ پہنچ گئے۔ سوء اتفاق، مولانا مودودیؒ تک وہ نہیں پہنچ سکے اور ان کے بھائی جان لاہور ہی سے ان کو واپس لے آئے۔ اسی طرح سے اور بھی بہت سے نوجوان جماعت کا لٹریچر پڑھ کر اپنی تعلیم سے غیر مطمئن ہوکر کسی اسلامی تعلیمی ادارے کی تلاش میں رہے۔ یہاں تک کہ تقسیمِ ہند کا حادثہ پیش آگیا اور جماعتِ اسلامی بھی تقسیم ہوکر ’’جماعتِ اسلامی ہند‘‘ اور ’’جماعتِ اسلامی پاکستان‘‘ بن گئی۔ جب جماعتِ اسلامی (ہند) کا مرکز، ملیح آباد سے رام پور منتقل ہوا تو جماعت سے متاثر طلبہ نے جماعت کے ذمہ داروں سے خواہش ظاہر کی کہ وہ اپنے غیر اسلامی تعلیمی اداروں کو خیر باد کہنا چاہتے ہیں لہٰذا ان کی تعلیم و تربیت کا ممکنہ انتظام کیا جائے۔ چنانچہ جماعتِ اسلامی ہند نے ان نوجوان طلبہ کے دینی جذبات کی قدر کرتے ہوئے عسرت کے ابتدائی دور میں ’’ثانوی درس گاہ اسلامی‘‘ قائم کردی۔ اور پورے ہندوستان سے نوجوان طلبہ نے اپنے تعلیمی اداروں کو خیرباد کہہ کر ثانوی درس گاہ (رام پور) میں داخلہ لیا اور جماعت نے اپنے بہترین دستیاب علماء دین کو ان کی تعلیم وتربیت پر مامور کیا۔ ثانوی تعلیم کا چار سالہ نصاب تجویز ہوا، اس میں عربی ادب پر خاصا زور دیا گیا تاکہ ان نوجوانوں میں عربی کی استعداد اتنی پیدا ہوجائے کہ وہ براہِ راست قرآن و حدیث اور عربی لٹریچر سے استفادہ کرسکیں۔ پھر اُن کے اندر قرآن و حدیث کا فہم پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ چار سالہ نصاب تھا۔

اس نصاب کا مقصد یہ تھا کہ کچھ نوجوان، اسلامیات اور علومِ جدیدہ میں اچھی استعداد پیدا کرکے جدید تعلیم یافتہ لوگوں کے لیے اسلامی لٹریچر تیار کریں اور کچھ لوگ اپنے آپ کو دعوتی اور تنظیمی خدمات کے لیے پیش کریں، چنانچہ چار سالہ نصاب سے فراغت کے بعد کچھ طلبہ نے یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ تصنیف و تالیف کے میدان میں کام کریں گے۔ ثانوی تعلیم سے اسلامیات کی کچھ شُدبُد تو ہوگئی، مگر علومِ جدیدہ، سیاسیات و معاشیات اور عمرانیات وغیرہ میں کالج کی تعلیم درمیان ہی میں چھوڑ دینے کی وجہ سے ناقص رہ گئی، لہٰذا ان کو اجازت دی جائے کہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ جاکر قیام کریں اور وہاں کے اساتذہ سے اور لائبریری سے استفادہ کرکے یہ کمی پوری کرلیں۔ چنانچہ جماعت نے اس کی اجازت دے دی اور کچھ لوگوں کو جماعت نے وظیفہ بھی دیا۔ ایک سال کے بعد ان حضرات نے جماعت کے سامنے یہ تجویز پیش کی کہ جب تک یونیورسٹی میں باضابطہ داخلہ نہ لیا جائے کوئی پروفیسر اپنا وقت کیوں دے گا؟ لائبریری کتابیں کیوں دے گی؟ لہٰذا اس کمی کو پوری کرنے کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ یونیورسٹی میں باضابطہ داخلہ لے کر یہ مقصد حاصل کیا جائے۔ جماعت نے ان پر اعتماد کرکے اجازت دے دی۔ چنانچہ ان طلبہ حضرات نے ذوق وشوق سے اور محنت سے اپنی تعلیم کی تکمیل کی تو نتائج غیر متوقع طور پر شاندار نکلے۔ کچھ تو فرسٹ ڈویژن پاس ہوئے اور کچھ نے اپنے درجے میں اول مقام حاصل کیا۔ اب ان کے لیے علی گڑھ یونیورسٹی میں ملازمت کا دروازہ کھل گیا۔ اب (اِن) نوجوان حضرات سے یہ توقع کی گئی کہ فراغت کے بعد اپنی خدمات، جماعت کے مجوزہ کفاف پر پیش کریں تو وہ ان کے لیے قابلِ قبول نہیں ہوا اور پھر انھی قتل گاہوں میں جلاَّد کے فرائض انجام دینے کے لیے واپس ہوگئے۔

(افسوس ہے کہ درسگاہِ ثانوی کے ان فارغین نے) عزیمت سے رخصت کی راہ اختیار کی۔ ان کا یہ طرزِ عمل، جماعت کے لیے المیہ ثابت ہوا اور وہی لوگ بعد میں آنے والے نوجوان طلبہ کے لیے نمونہ بن گئے۔ (اب تحریکی طلبہ کا یہ مزاج بن گیا کہ وہ) جماعت سے اتفاق اور دلچسپی کے ساتھ یونیورسٹیوں میں اپنی تعلیم کی تکمیل کریں۔ ایم.اے. اور پی.ایچ.ڈی. کرنے کے بعد یونیورسٹی اور کالج میں ملازمت کریں اور ساتھ ساتھ جماعتِ اسلامی کے رکن بھی بن جائیں اور جتنا موقع ہو اُتنا ہی دعوتی اور تحریکی خدمات انجام دیں۔ (ان کے خیال میں) کفاف قبول کرکے اپنی پوری زندگی انتہائی عسرت اور سادگی سے گزارنا یہ عقل مندی نہیں، بلکہ سفاہت ٹھہرا تو اب ان حالات میں تحریکِ اسلامی کو ہمہ وقتی کارکن کیسے دستیاب ہوسکتے ہیں؟ دوسری بات اس زمانے میں یہ ہوتی رہی کہ جو ارکانِ جماعت، سرکاری ملازم تھے ان کو طاغوتی نظام نے برداشت نہیں کیا۔ اور ان کے سامنے یہ صورت پیش کی کہ اگر ان کو سرکاری ملازمت کرنی ہے تو جماعت سے علیحدگی اختیار کرلیں ورنہ حکومت سے برطرفی قبول کریں۔ بہار کی حد تک ارکان کی ذہنی تربیت ایسی کی گئی تھی کہ سب کے سب نے برطرفی کو ملازمت پر ترجیح دی اور ان حضرات نے اپنے آپ کو جماعت کی ہمہ وقتی خدمات کے لیے پیش کردیا۔ مگر اب یہ صورت بھی باقی نہیں رہی۔ اول تو اب کوئی سرکاری ملازم جماعت کی رکنیت کے لیے آمادہ ہی نہیں ہوتا اور اگر کوئی رکن بن بھی جاتا ہے تو طاغوتی نظام ان سے اپنے لیے کوئی خطرہ نہیں محسوس کرتا، ان کو برداشت اور گوارا کرلیتا ہے۔ اس طرح سے تحریکِ اسلامی کے لیے ہمہ وقتی کارکنان کا جماعت کے کفاف کی شرح کو قبول کرکے ملنا نایاب یا کمیاب ہوگیا ہے۔

افضل صاحبؒ نے میری معروضات کو توجہ اور دلچسپی سے سنا، تائید میں سرہلاتے اور مسکراتے رہے، اتفاق کیا اور ٹھنڈی سانس لی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ ایک مستقل ضابطہ تجویز کیا ہے کہ جو لوگ عملِ صالح کریں گے ان کو استخلاف فی الارض عطا کیا جائے گا، چنانچہ جب عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں نے ان کا ساتھ دیا تو اللہ نے ان کی مدد کی۔ اور آخری طور پر محمد ﷺ اور آپ کے ساتھیوں نے ایمان اور عملِ صالح کی شرط پوری کردی تو ۲۳؍سال کی مختصر سی مدت میں وہ پورے جزیرۃ العرب کے خلیفہ بنادیے گئے۔ اقامتِ دین کی راہ آزمائشوں، جدوجہد اور قربانیوں کی راہ ہے۔ بغیر قربانی کے کوئی معمولی سے معمولی مقصد بھی حاصل نہیں ہوتا۔ اقبالؔ نے بھی کہا ؂

لا کہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب و جگر

تا خلافت کی بِنا دنیا میں ہو پھر استوار

مجھ کواپنے بچپن کا زمانہ یا دآتا ہے۔ جب گلی کوچوں میں بچے کہتے پھرتے تھے ؂

بولیں اماں محمد علی کی جان بیٹا خلافت پہ دے دو

لیکن حیرت ہے کہ اب کچھ لوگ ایسا سوچنے لگے ہیں کہ آزمائشوں اور قربانیوں سے بچ کر سیاسی داؤ پیچ کے بل پر اقامتِ دین ممکن ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کرام اور نیک بندوں کو آزمائشوں سے گزارے بغیر اپنا دین قائم کرادیتا۔ کیا خیر البشر حضرت محمد ﷺ اللہ کے سب سے پیارے بندے نہ تھے؟ پھر کیوں ان کو ہر طرح کی آزمائشوں سے گزارا گیا؟ کون سی ایسی جسمانی، ذہنی اور قلبی اذیت ہے جس سے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو نہیں گزارا گیا؟

اقبالؔ نے عقل مندوں اور دانش وروں کے سلسلے میں کہا ہے ؂

اَزل سے اہلِ خرد کا مقام ہے اعراف

میری ان سے آخری ملاقات مرکزِ جماعت اسلامی دہلی میں ہوئی۔ میں نے ان سے تفریحاً کہا کہ اب آپ قیم جماعت کے منصب سے سبک دوش ہوجائیے اور جامعۃ الفلاح بلریاگنج جاکر اس کو صحیح معنوں میں پورے طور پر جدید طرز کی جامعہ ملیہ بنانے کی کوشش کیجیے اور وہ حسبِ عادت مسکرا کر رہ گئے۔ کیا معلوم تھا کہ یہ آخری ملاقات ہے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور فردوس میں جگہ دے۔ (آمین)

افضل حسین ؒ قائدینِ تحریکِ اسلامی کے احساسات

  • افضل حسینؒ ۔ایثار وقربانی کاپیکر

    انعام الرحمن خاں، بھوپال

    (سابق امیر حلقہ مدھیہ پردیش)

    اس کی امیدیں قلیل،اس کے مقاصد جلیل ۱۹۴۵ء میں مولانا سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ فرمایا تھا: ’’۔۔۔ ہم دراصل ایک ایسا گروہ تیار کرنا چاہتے ہیں جو ایک …

    مزید

  • وہ فنا فی الجماعت ہوگئے تھے

    محمد حسنین سید

    درس گاہ اسلامی، دربھنگہ، بہار

    مولانا افضل حسین صاحب رحمۃ اللہ علیہ سراپا اخلاص اور فنا فی الجماعت تھے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور فردوس میں جگہ دے۔ آمین!

    ان سے میری پہلی ملاقات ۱۹۴۵ء میں پٹنہ میں ہوئی …

    مزید

  • وہ ماں کی طرح مہربان و شفیق تھے

    جناب اعجاز اسلم صاحب

    سکریٹری جماعتِ اسلامی ہند

    میں مولانا سے سب سے پہلے کی ان کی تیار کردہ درسی کتابوں کے ذریعہ متعارف ہوا۔پھر ۱۹۷۷ء میں ریاست تمل ناڈو کی امارت سنبھالنے کے بعد بار بار مرکز آنے کا موقع ملا۔ اس طرح مختلف …

    مزید

  • افضل حسینؒ نے جماعت کی تاریخ بنائی

    سیّد جلال الدین عمری

    سابق مدیر ماہنامہ زندگی نو،نئی دہلی

    ابھی۲۲؍نومبر ۱۹۸۹ء کو مولانا سلمان ندوی مدیر سہ روزہ دعوت اور عربی جریدہ الدعوۃ، (نئی دہلی) کے انتقال کا صدمہ ہم سب لوگوں کو برداشت کرنا پڑا کہ صرف پانچ ہفتے بعد …

    مزید