Latest Updates
TO BUY “ ANY BOOKS” PLEASE CONTACT PUBLISHER

Home/ تاثرات

امیر جماعت اسلامی ہند

مولانا ابواللیث اصلاحی ندوی ؒ کے تاثرات

یکم؍ جنوری ۱۹۹۰ء

جناب افضل حسین صاحب قیم جماعتِ اسلامی ہند کے حادثۂ انتقال پرجناب مولانا ابواللیث صاحب امیر جماعت اسلامی ہند نے اپنے شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:

’’یہ حادثہ اگرچہ غیر متوقع نہ تھا کیوں کہ وہ ایک عرصے سے شدید بیمار تھے۔ لیکن اس کا میرے قلب و دماغ پر اتنا شدید اثر ہے کہ میں اپنے جذبات کے اظہار کے لیے الفاظ نہیں پارہا ہوں۔

اِدھر متعدد رفقاء کار کی جدائی کے صدمات سے میں دوچار ہوا ہوں لیکن قیم جماعت کی عظیم خدمات، قربانیوں اور ان کی متعدد امتیازی اور قابلِ رشک خصوصیات و اوصاف اور جماعتِ اسلامی کے ساتھ ان کے گہرے ربط کی بنا پر میرے لیے یہ حادثہ سب سے زیادہ غم انگیز ہے۔ وہ میرے قدیم ترین دستِ راست، دیرینہ ساتھی، حد درجہ معتمد علیہ تھے۔ اور ذاتی طور سے بھی وہ مجھ سے، اور میں ان سے گہرا لگاؤ رکھتا تھا۔ اس لیے یہ حادثہ میرے لیے ایک ذاتی حادثہ کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی کوتاہیوں سے درگزر فرمائے اور جنت میں ان کو مراتب عالیہ سے سرفراز فرمائے اور ان کے متعلقین نیز جماعتِ اسلامی کے تمام وابستگان کو صبرِ جمیل کی توفیق دے اور ساتھ ہی جماعتِ اسلامی کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔‘‘

(بقلم عبدالحق فلاحی)

یہ رتبۂ بلند ملا جس کو مل گیا

مولانا محمد رفیق قاسمی

سکریٹری جماعت اسلامی ہند

مولانا افضل حسین صاحب رحمۃ اللہ علیہ ملتِ مسلمہ کی ان چند نابغۂ روزگار ہستیوں میں سے ایک تھے جنھوں نے اپنے افکار و نظریات، سیرت و کردار، مربیانہ حیثیت اور معلمانہ انداز سے بہت سے طلبہ اور نونہالوں کی تربیت اس طور پر کی کہ آئندہ نسل دین کی داعی، اسلام کی مبلّغ اور اللہ کے راہ کی مجاہد بن جائے۔ا س مقصدِ عظیم کے حصول کے لیے موصوف کا خلوص ، جذبۂ ہمدردی اور زیر تعلیم بچوں میں اساتدہ کے تئیں خوف کے بجائے محبت کا اثر کارفرما تھا۔ وہ مرکزی درس گاہ رام پور کے تمام ہی طلبہ کے چچا میاں تھے۔

درسگاہ کے نظام میں اساتذہ کو ’چچا میاں‘ اور ملازمین کو ’چچا صاحب‘ کہا جاتا تھا جو افضل صاحب ہی کی وضع کردہ اصطلاح تھی۔

مرحوم کا یہ امتیازی حیثیت کا اثر تادیر باقی رہے گا کہ انھوں نے دیگر تعلیمی نظریات کے ساتھ ساتھ اسلامی نظریات کی وضاحت کی اور اسلام کے نظامِ تعلیم اور نظرےۂ تعلیم کو مربوط اور دلنشیں انداز میں پیش فرمایا۔

مرحوم افضل حسین صاحب فنافی الجماعت تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ رفقاء اور متوسلینِ جماعت کے اخلاق و کردار میں نصب العین سے والہانہ لگاؤ اور اس سے عشق کی کیفیت پیدا ہوجائے اور وہ برقرار بھی ہے۔ چوں کہ وہ خود ایثار و قربانی کے پیکر تھے اس لیے تحریک سے تعلق رکھنے والوں میں اس مطلوبہ صفت کو پیدا کرنے کے لیے ممکنہ تدابیر اختیار فرمانے میں ہمیشہ ساعی و سرگرم رہے۔ وہ اسوۂ رسولؐ اور اخلاقِ نبویؐ کو اپنانے میں بڑے حساس واقع ہوئے تھے۔ نہایت منکسر المزاج اور متواضع تھے، اپنے نجی کام وہ خود اپنے ہاتھ سے کرتے تھے۔

جذبۂ تشکر کا عالم یہ تھا کہ ایک اہم اجتماع میں جب جماعت کے ایک ذمہ دار نے اپنے خطاب میں یہ کہا کہ ’’یہ تحریک دینی تحریک ہے، اس کے مناصب اور ذمہ داریاں ربِ ذوالجلال کی طرف سے عطا کی جاتی ہیں‘‘ تو موصوف پر رقت طاری ہوگئی کہ مجھ جیسے کمتر شخص کو میرے مالکِ عظیم نے قیّمِی جیسی ذمہ داری کے لیے پسند فرمایا۔ خدا کی اس پسندیدگی کا نتیجہ تھا کہ وہ اپنی زندگی کی آخری سانس تک جماعت اسلامی ہند کے قیم رہے۔

اللہ تعالیٰ ان کی مساعی کو ذریعہ نجات بنادے اور ان کی قبر کو نور سے منور فرمادے۔

ان کا رویہ بحیثیت ناظم

مولانا محمد سلیمان قاسمی

سابق استاذ مرکزی درسگاہ اسلامی رام پور کوچہ لال میاں، رام پور

مرحوم افضل حسین صاحب، قیمِ جماعتِ اسلامی ہند کے منصب جلیل پر فائز تھے مگر میری طرح کچھ اور رفقاء ہیں جو موصوف کو ’’قیم صاحب‘‘ بتکلف ہی کہتے تھے۔ ہماری زبانوں پر ’’ناظم صاحب‘‘ ہی چڑھا ہوا تھا۔۱؂

واقعہ یہ ہے کہ موصوف تعلیم کے میدان کے آدمی تھے۔ میں نے ایک بار مرکز کو تجویز بھیجی تھی کہ موصوف کو ملک میں پھیلے ہوئے تعلیمی اداروں کا جو وابستگانِ جماعت چلا رہے ہیں، ڈائریکٹر تعلیمات بنادیا جائے۔ ان کی تالیف ’’فنِ تعلیم وتربیت‘‘ سے اندازہ کرنے والے اندازہ کرسکتے ہیں کہ اس فن سے ان کو کس قدر لگاؤ تھا۔ مختلف تعلیمی کمیٹیوں میں ممبرس کی حیثیت سے جو لوگ ان کے ساتھ شریک رہے ہیں، وہ اس بات کی گواہی دیں گے۔ میں تو عملاً انھوں نے جو اس فن کے مطابق برتا اور مظاہرہ کیا اس کے سلسلے میں کچھ تاثرات درج کرسکتا ہوں۔

(۱) بحیثیت ناظمِ درسگاہ موصوف نے کبھی ہم لوگوں کے ساتھ افسری اور ماتحتی کا سا سلوک اور برتاؤ نہیں کیا۔

(۲) موصوف نے ہمیں ہمیشہ اپنا بھائی سمجھا اور ہمارے ساتھ بھائیوں کا ساسلوک کیا۔

(۳) انھوں نے ہمیشہ ہمارا دل ہاتھ میں لینے کی کوشش کی اور ہمارے ساتھ ہمہ پہلو ہمدردی کا سلوک کیا۔ اس طرح موصوف نے ثابت کیا کہ استاد کی قدر کرنا چاہیے۔ اگر ہیڈ ماسٹر یا پرنسپل ہی اپنے اسٹاف کی عزت اور احترام نہیں کرے گا تو طلبہ یا طالبات اپنے اساتذہ یا معلمات کا ادب و احترام نہیں کرسکتے۔ اور اس کے بغیر افادہ اور استفادہ دونوں مجروح ہوں گے۔

(۴) موصوف نے اپنے دورِ نظامت میں اساتذہ کرام کے اندر ملازمانہ ذہنیت پیدا نہیں ہونے دی۔ یہی وجہ ہے کہ اس دور کے اساتذہ، درس گاہ کو اپنا ادارہ سمجھتے تھے اور دل و جان سے تعلیم و تربیت کا فریضہ ادا کرتے تھے۔

(۵) اس سلسلے میں قول سے زیادہ عمل کا اور گفتار سے زیادہ کردار کا نمونہ چونکہ خود موصوف اپنا پیش کرتے تھے اور ان کی زندگی کھلی کتاب کی مانند ہمارے سامنے موجود تھی، اس لیے اساتذہ کرام عملاً موصوف کو اپنا سرپرست سمجھتے تھے۔ اگر وہ مادی اعتبار سے بہت اچھا طرزِ رہائش اختیار کرتے، بہترین کھانا کھاتے، اعلیٰ قسم کا لباس استعمال کرتے اور دوسرے اساتذہ کو یہ سب کچھ میسر نہ آتا تو یقیناًوہ بھائی چارہ، اخوت اور رفاقت پیدا نہیں ہوسکتی تھی جو عملاً درس گاہ میں پائی جاتی تھی۔ ہم لوگوں کو ان کی سادگی اور وضع داری آنکھوں سے نظر آتی تھی۔ موصوف کے اندازِ تربیت میں سب سے زیادہ جس چیز کو دخل تھا، وہ موصوف کا خلوص، جذبۂ ہمدردی اور بچوں کو مستقبل کا مبلّغ اور مجاہد بنانے کی تڑپ تھی، دل سے جو بات نکلتی ہے وہ دل پر اثر انداز ہوتی ہے۔ درسگاہ کو موصوف نے تحریکی، دعوتی اور نظریاتی ادارہ بنایا تھا اور یہی تمنا اور آرزو موصوف اپنے دل میں لے کر گئے کہ درس گاہ تحریکی، دعوتی اور نظریاتی ادارہ رہے۔ چنانچہ تربیت میں وہ اس چیز کو ملحوظ رکھتے تھے کہ بچے تحریکِ اسلامی کے علم بردار بن کر اٹھیں، دین کے داعی بن کر نکلیں، اسلامی نظریۂ کائنات و انسانیت کے نہ صرف مالک ہوں بلکہ موصوف چاہتے تھے کہ درسگاہ کے فارغین توحید،رسالت اور آخرت کے عقائد کے تحت تربیت پاکر اپنی زندگیاں انھی کے مطابق ڈھال لیں۔

موصوف تربیت میں تدریج کے قائل تھے۔ وہ تربیت میں جبر کے اور آرڈر کے قائل نہیں تھے۔موصوف انبیاء علیہم السلام، حضور ﷺ، صحابۂ کرامؓ اور بزرگانِ دین کی کہانیوں کے ذریعے،درسگاہ کے ماحول کے ذریعہ، بورڈنگ کے تربیتی پروگرام پر عمل کراکے اچھے کاموں کی عادت ڈلواکر اور پھر ان میں عبادت کی روح پیدا کرنے کی فکر کرکے بچوں کو اچھا شہری، بہترین انسان، اچھامومن اور مسلمان اور اللہ کا صالح بندہ بنانا چاہتے تھے۔ اور تربیت میں صرف مذہبی پہلو ہی ان کے پیشِ نظر نہیں تھا، وہ بچوں کی ہمہ پہلو صلاحیتیں اجاگر کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ بچوں سے چارٹ بنواتے، ان میں آرٹ اور خوش خطی دونوں کا مظاہرہ ہوتا۔ اِسپرے وَرک کراتے، زمین پر مٹی کے ماڈل بنواتے، کیاریاں بنواتے، ان میں پودے لگواتے، طرح طرح کے اِن ڈورس اور آؤٹ ڈورس گیمس کراتے، ہر ماہ پکنک کا اہتمام کرتے۔ کبھی ہوم پکنک ہوتی۔ بورڈنگ کی صفائی اور انتظام کی ٹولیاں بنواتے، پکنک میں بھی تقسیمِ کار پر عمل ہوتا۔ غرض کہ ہر کام اور ہر موقعے پر تربیت پیشِ نظر ہوتی۔ اجتماعات کراتے، پروگرام بچے ہی چلاتے۔ نظمیں، کہانیاں، قرأت، تقریریں، غرض کہ نوع بنوع پروگرام رکھواتے۔ لڑکوں کو یہ محسوس نہیں ہونے دیتے کہ وہ پردیس میں ہیں۔ مجھے خوب اچھی طرح یاد ہے اور برسہا برس کا تجربہ ہے کہ طلبہ گھر جاتے تو دبلے ہوکر آتے اوربورڈنگ میں چونکہ بچے خوش و خرم رہتے تھے، اس لیے ان کی صحت بحال رہتی تھی۔حالانکہ ظاہر ہے، کسی بھی اسکول بورڈنگ میں سب کے حسبِ منشاء ناشتے، کھانے وغیرہ کا اہتمام ممکن نہیں ہوتا۔

اب چند باتیں موصوف کی تعلیم و تدریس سے متعلق: آج کل کی اجتماعی تعلیم میں ہزار خوبیوں کے باوجود ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ طلبہ اور اساتذہ میں، طالبات اور معلمات میں، استاد اور شاگرد کا، گرو اور چیلے کا اور شیخ و مرید کا روایتی شخصی تعلق اور ربط پیدا نہیں ہوتا، بلکہ اس کے برعکس ایسا بھی ہوتا ہے کہ اجرت پر کام لینے اور کام کرنے کی کیفیت اور ذہنیت پیدا ہوجاتی ہے، مگر مرحوم ناظم صاحب کی خصوصیت یہ تھی کہ جس کلاس میں بھی گھنٹہ لیتے اس میں ہر لڑکا یہ محسوس کرتا کہ ناظم صاحب میری طرف متوجہ ہیں اور مجھ ہی کو سمجھا رہے ہیں اور میرے ہمدرد اور خیرخواہ ہیں۔ بیچ بیچ میں کبھی کبھی ایسے سوالات کرلیتے جس سے معلوم ہوتا کہ لڑکے کے سرپرستوں سے ناظم صاحب کے شخصی تعلقات ہیں۔ سمجھانے کا انداز ایسا ہوتا کہ بات بچوں کے دل میں اترجاتی، پہلے مختصر مگر سہل انداز میں کچھ تمہیدی الفاظ ہوتے، پھر اصل مسئلہ بیان کرتے۔ صرف اساتذہ کرام ہی کی عزتِ نفس کا خیال نہیں رکھتے بلکہ طلبہ کی عزتِ نفس کا ہمیشہ خیال رکھتے۔ طرح طرح سے ان کی ہمت افزائی کرتے، انداز بے تکلفانہ اختیار کرتے۔ طلبہ کو سوالات کرنے پر ابھارتے۔ مجھے خود ذاتی تجربہ ہے کیونکہ ہم نوعمر اور اَن ٹرینڈ اساتذہ کو ٹرینڈ کرنے کے لیے ہفتوں اور مہینوں ہماری کلاسیں لگتی رہیں۔ اور ناظم صاحب بڑی محنت سے نوٹس تیار کرکے لاتے رہے اور بلیک بورڈ سے بھی ہمیں سمجھانے کے لیے کام لیتے رہے۔ قلم اور نوٹ بک ہم لوگ اپنے ساتھ رکھتے۔ تمہید اور فہمائش کے بعد سوالات کا موقع دیتے۔ غرض کہ موصوف اپنی نظامت میں، تدریس و تعلیم میں اور تربیت میں، غرضیکہ ہر ایک معاملے میں سراپا خلوص نظرآتے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم و مغفور کو جنت الفردوس میں جگہ عنایت فرمائے۔ آمین!

افضل حسین ؒ قائدینِ تحریکِ اسلامی کے احساسات

  • افضل حسینؒ ۔ایثار وقربانی کاپیکر

    انعام الرحمن خاں، بھوپال

    (سابق امیر حلقہ مدھیہ پردیش)

    اس کی امیدیں قلیل،اس کے مقاصد جلیل ۱۹۴۵ء میں مولانا سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ فرمایا تھا: ’’۔۔۔ ہم دراصل ایک ایسا گروہ تیار کرنا چاہتے ہیں جو ایک …

    مزید

  • وہ فنا فی الجماعت ہوگئے تھے

    محمد حسنین سید

    درس گاہ اسلامی، دربھنگہ، بہار

    مولانا افضل حسین صاحب رحمۃ اللہ علیہ سراپا اخلاص اور فنا فی الجماعت تھے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور فردوس میں جگہ دے۔ آمین!

    ان سے میری پہلی ملاقات ۱۹۴۵ء میں پٹنہ میں ہوئی …

    مزید

  • وہ ماں کی طرح مہربان و شفیق تھے

    جناب اعجاز اسلم صاحب

    سکریٹری جماعتِ اسلامی ہند

    میں مولانا سے سب سے پہلے کی ان کی تیار کردہ درسی کتابوں کے ذریعہ متعارف ہوا۔پھر ۱۹۷۷ء میں ریاست تمل ناڈو کی امارت سنبھالنے کے بعد بار بار مرکز آنے کا موقع ملا۔ اس طرح مختلف …

    مزید

  • افضل حسینؒ نے جماعت کی تاریخ بنائی

    سیّد جلال الدین عمری

    سابق مدیر ماہنامہ زندگی نو،نئی دہلی

    ابھی۲۲؍نومبر ۱۹۸۹ء کو مولانا سلمان ندوی مدیر سہ روزہ دعوت اور عربی جریدہ الدعوۃ، (نئی دہلی) کے انتقال کا صدمہ ہم سب لوگوں کو برداشت کرنا پڑا کہ صرف پانچ ہفتے بعد …

    مزید