Latest Updates
TO BUY “ ANY BOOKS” PLEASE CONTACT PUBLISHER

Home/ انٹرویو قمر افضل

انٹرویو

ہمارے ابا جان

کچھ یادیں کچھ باتیں

انٹرویو: قمر افضل طلعت

گفتگو: عبدالحق فلاحی

[یہ انٹریو ہماری فرمائش پر جناب افضل حسینؒ مرحوم کے چھوٹے صاحبزادے قمر افضل طلعت صاحب (عرف مُنُّو) نے دُبئی سے انٹر نیٹ پر دیا جو ان کے والد گرامی قدر کے حالات و واقعاتِ زندگی پر مشتمل ہے اور خود قمر افضل صاحب کی زندگی کا بھی ایک حصہ اس میں آگیا ہے۔ اس انٹرویو میں افضل صاحب کی سوچ ، طرز فکر، طرز عمل ، طرز زندگی اور تحریک اسلامی ہند سے ان کی گہری وابستگی اور اس کے لیے ان کی قربانیوں کا قدرے تفصیلی تذکرہ ہے۔ اس طویل انٹرویو کے دوران کئی مواقع ایسے آئے جب قمر افضل اپنے والد مرحوم کی قربانیوں اور مشکل ترین حالات میں ان کے صبر و استقامت کو یاد کرکے آبدیدہ ہوگئے اور ان پر رقت طاری ہوگئی۔ طوالت سے بچنے کے لیے انٹرویو کو سوال و جواب کے بجائے بیانیہ انداز میں ذیلی عنوانات کے تحت درج کررہے ہیں۔

انٹرویو میں جہاں قمر افضل صاحب نے ’’آپ‘‘ کہہ کر مخاطب کیا ہے اس سے مراد خود میری ذات ہے۔]

گھر گھرانہ

ہمارے والدِ مرحوم جناب افضل حسینؒ خاں صاحب ایک خوشحال زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور ہمارا گھرانہ بھی علاقے کے معزز گھرانوں میں سے ایک تھا۔ ہمارا آبائی گھر بھی گاؤں کے عام گھروں سے ممتاز اور نمایاں تھا۔ مقامی مسئلے مسائل کے حل کے لیے لوگ ہمارے خاندان کی طرف رجوع کرتے تھے۔

ابا کا جو گھر ہے جانْتے ڈِیہا، اور سسرال دُودھارا۔ تو دونوں میں ایک کلو میٹر کا فاصلہ ہے۔ جانتے ڈِیہا پہنچنے کے لیے بستی شہر سے بس اسٹاپ دُودھارا آنا ہوگا اور پھر وہاں سے جَانْتے ڈِیہا۔

ہمارا نانہال بھی علاقہ کی جانی مانی فیملی تھی اور دادا جان کے یہاں بھی وہ اسی طرح متعارف تھی۔ ان لوگوں کے درمیان آپس میں خوشگوارروابط تھے۔نانا جان اسلامی نظریہ کے حامل تھے۔ ان کا انتقال امی کی شادی کے کافی دنوں بعد ہوا تھا۔

ابا جان کا بچپن

ابا جان کا بچپنا بھی نہایت شریفانہ اور شائشتہ تھا۔ ان کی ابتدائی تعلیم یعنی پرائمری ایجوکیشن قریبی گاؤں دُودھارا کے پرائمری اسکول میں ہوئی۔یہی گاؤں آگے چل کر ان کی سسرال بنا۔بچپنے میں جب ابا اسکول پڑھنے جاتے تھے تو نانی کے گھر کے سامنے سے ان کا گزرہوتا تھا۔

اسکول جانے کا وہی ایک راستہ تھا، کوئی اور راستہ نہ تھا۔ نانی بتاتی تھیں کہ سارے بچے اُچھلتے کودتے ہوئے اسکول جاتے تھے اور یہ (یعنی ابا جان) سر پر ٹوپی لگائے خاموشی کے ساتھ گزرتے تھے۔ مطلب یہ کہ وہ عام بچوں سے تھوڑا مختلف نظر آتے تھے۔ یہ بات اماں بھی بتاتی تھیں اور نانی جان بھی، کہ یہ بہت سنجیدگی سے ہمارے گھر کے سامنے سے گزرتے تھے۔ وہ اپنے سر سے ٹوپی نہیں ہٹاتے تھے جب کہ دوسرے بچے شور ہنگامہ کرتے ہوئے گزرتے تھے۔ اماں اور نانی کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ وہ بچپن ہی سے شریف طبیعت کے انسان تھے۔ اور جب ان کا رشتہ طے ہوا اور شادی ہوگئی، تب بھی ان کے بارے میں کبھی کوئی ایسی ویسی بات سننے میں نہیں آئی۔ شادی

ابا کا نکاح تو گاؤں کے عام دستور کے مطابق صغر سنی یعنی ۷۔۸ سال کی عمر میں ہوگیا تھا اور جب اماں کی رخصتی ہوئی تو وہ ۱۵۔۱۶ سال کے تھے۔

ابا جان کی تعلیمی اسناد اور میڈل وغیرہ

جہاں تک ابا جان کی تعلیمی اسناد، ڈگریوں اور گولڈ میڈل وغیرہ کا تعلق ہے تو وہ سب ابا کے پاس ایک صندوق میں رکھی رہتی تھیں، مگر دہلی شفٹ ہونے کے بعد یہ بڑا صندوق یہاں گھر میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے رام پور میں رکھا رہ گیا۔

ابا کے انتقال کے بعد بھائی جان (عمر افضل صاحب) نے ان کا کوئی سامان نہیں لیا بجز اس طلائی تمغہ (گولڈ میڈل) کے جو ابا کو علی گڑھ یو نیورسٹی سے بی.اے. میں امتیازی پوزیشن سے پاس ہونے کے صلہ میں ملا تھا۔ اس کے بارے میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ مجھے دے دو۔ چنانچہ وہ چیز انھیں دے دی گئی اور اب انھی کے پاس امریکہ میں محفوظ ہے۔ البتہ صندوق میں رکھی دیگر دستاویزات اسناد وغیرہ دیمکوں کی نذر ہوگئیں اور اس میں سے کچھ بھی باقی نہیں بچا۔

روشن خیالی اور وسعتِ نظر

ابا کے مزاج میں اعتدال و توازن اور روشن خیالی تھی۔ دقیانوسی نوعیت کے افکار و خیالات اور عادات بالکل نہیں تھے۔

وہ کسی چیز کے بارے میں بھی تنگ نظری سے نہیں سوچتے تھے۔ ہر چیز کو بہت وسیع تناظر میں دیکھتے تھے۔ اس زمانہ (۱۹۳۵ء ) میں ان کی روشن خیالی کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ شادی کے بعد انھوں نے امی کو اپنے ساتھ رکھا، جب کہ گاؤں میں اس طرح کا کوئی رواج نہیں تھا یعنی ملازمت وغیرہ کے سلسلے میں پردیس میں رہنے والے لوگ شادی کے فوراً بعد بیوی کو اپنے ساتھ نہیں رکھتے تھے۔

تعلیم

پرائمری کی تعلیم کے بعد ابا نے گاؤں سے نکل کر بستی شہر سے ہائی اسکول اور انٹر میڈیٹ کیا اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے گریجویشن ،آگرہ یونیورسٹی سے پوسٹ گریجویشن اور الٰہ آباد یونیوسٹی سے ایل.ٹی. کیا۔ آگے چل کر ’’افضل حسین ایم.اے. ایل. ٹی .‘‘ ان کی شناخت بن گئی۔ پھر وہ نارمل اسکول(یعنی ٹیچرس ٹریننگ اسکول ) فیض آباد جھانسی اور بستی میں وائس پرنسپل رہے۔

 

پرائمری اسکول کو یاد رکھا

کافی وقت گزر جانے کے بعد بھی ابا جان کو اپنا وہ اسکول یاد رہا جہاں سے انھوں نے پرائمری تعلیم حاصل کی تھی۔ وہ جگہ ایک درخت کے نیچے تھی، جس کی کوئی باونڈری نہیں تھی۔ ایک ٹھونٹھا پیڑ تھا، جس کے نیچے بیٹھ کر انھوں نے تعلیم حاصل کی تھی۔ اب وہاں ماشاء اللہ ایک پختہ عمارت میں سرکاری اسکول ۱۹۷۰ء  سے قائم ہے۔ ہم لوگ جب بھی اپنے گاؤں جاتے ہیں تو اس جگہ ضرور رکتے ہیں، جہاں ابا کا اسکول تھا۔ بس اسٹینڈ سے یہ جگہ تقریباً ایک کلو میٹر کے فاصلے پر ہے اور پیدل راستہ ہے۔ ابا جان بھی اس جگہ ضرور رکتے تھے اور وہاں بیٹھ کر پانی پیتے تھے۔

خَیْرُکُْم خَیْرُکُمْ لِأَہْلِکُمْ

تعلقات میں خوشگواری اور معاملات میں خوش اسلوبی صرف بیرونِ خانہ لوگوں کے ساتھ مخصوص نہ تھی جیسا کہ عموماً قومی رہنماؤں اور مصلحین اور واعظین کا مزاج ہوتا ہے بلکہ گھر کے تمام افراد کے ساتھ ابا جان برابری کا سلوک کرتے تھے۔ کسی کے ساتھ کمی بیشی کا سوال نہیں تھا۔ میں نے اپنی زندگی میں اتنا معتدل و متوازن انسان نہیں دیکھا۔ وہ کبھی کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کرتے تھے۔ اگر والدہ ہیں تو ان کو اپنی بیوی کا درجہ دیتے تھے۔ بیٹے ہیں تو بیٹے کا، بہو ہیں تو بہو کا اور بچے ہیں تو بچے کا درجہ دیتے تھے۔

یہ جو کہا جاتا ہے کہ بہو کو بیٹی بناکر رکھوتو میرے خیال میں یہ غیر عملی چیز ہے۔ چنانچہ ابا نے بہو کو بہو بناکر رکھا یعنی انھوں نے کبھی ایسا رویہ نہیں اختیار کیا جس سے یہ لگے کہ افرادِ خانہ کے معاملے میں وہ کسی کے ساتھ دوہرا نظریہ رکھتے ہیں، بلکہ وہ ہر ایک کے ساتھ برابری کا سلوک کرتے تھے۔ انھوں نے اپنے گھر میں ہر ایک سے اس کے مقام و مرتبہ کے لحاظ سے معاملہ کیا۔ نہ کسی کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دی اور نہ کم۔

بڑے ابا کے انتقال کے بعد ابا اپنے گاؤں جایا کرتے تھے۔ ابا کی یہ مستقل ہدایت تھی کہ جب گاؤں۔ بستی۔ جاؤ تو اپنی پھوپھیوں سے ضرور ملو اور ان سے برابر ملتے رہنا۔ابا کی ۳ بہنیں تھیں جو ان سے بڑی تھیں۔ ان میں سے ایک بعدمیں پاکستان چلی گئیں۔

ہمارے ابا ۳ بھائی تھے، دو اُن سے بڑے تھے، جنھوں نے انھیں پالا پوسا تھا کیونکہ ابا کے بچپنے ہی میں دادا جان کا انتقال ہوگیا تھا، جب کہ وہ ابھی چھ سال کے تھے۔ ابا جان کی جب سرکاری نوکری لگی تو بڑے ابا کا ذہنی توازن خراب ہوگیا۔ اور وہ گھر پر رہنے لگے۔(اس سے پہلے وہ بستی کچہری میں مختاری کے فرائض انجام دے رہے تھے)۔ چنانچہ ابا جان نے اپنی سرکاری ملازمت کے دوران جہاں انکی پوسٹنگ تھی، وہاں اپنے سب بھتیجوں بھتیجیوں کو ان کی تعلیم کے لیے اپنے ساتھ رکھنے کی کوشش کی۔ لڑکیاں بڑی ہوئیں تو ان کی شادی کردی۔ سب بچوں کو پڑھایا لکھایا۔ ان بچوں کو جھانسی کے زمانہ قیام میں بھی انھوں نے اپنے ساتھ رکھا اور بستی کے زمانۂ قیام میں بھی۔ الغرض، انھوں نے اپنے بھتیجوں بھتیجیوں کی پرورش و پرداخت اور تعلیم و تربیت میں کوئی کمی نہیں رکھی۔

صلہ رحمی، سیرچشمی اور ایثار و فیاضی

جب ابا کے دونوں بھائیوں کا انتقال ہوا تو ابا نے اپنے بھتیجوں کو بُلاکر کہا:

زمین، جائداد اور مکان میں سے تم لوگوں کو جو چاہیے لے لو۔

ابا نے ان لوگوں سے کہا کہ گھر کا جو حصہ اور جتنا، جس طرف آپ کو پسند ہولے لیجیے، باقی مجھے دے دیجیے۔‘‘

اس کے بعد انھوں نے زمین ورثاء میں تقسیم کردی اور گھر اور اسباب خانہ تقسیم کرکے اس کی ایک تفصیلی دستاویز خود اپنے ہاتھ سے تحریر کرکے گاؤں کے معزمین اور فریقوں کی اس پر دستخط لے لی۔ یہ دستاویز ابا جان کی ڈائری میں محفوط ہے، جسے انھوں نے میرے حوالے کیا تھا اور جس پر ہماری زمین کی بٹائی وغیرہ پر کی جانے والی کاشت کی تمام تفصیلات سال بہ سال درج ہیں۔

 

ابا نے اپنے بھتیجوں سے ایک بات اور کہی کہ:

’’اگر تم لوگوں کو مزید زمین چاہیے تو لے لو، مجھے کوئی اعتراض نہیں۔‘‘

’’افضل سینٹر‘‘ کا قیام

ابا جان کے انتقال کے بعد اپنے گاؤں میں ہم نے ابا جان کی یادگار میں ایک سینٹر قائم کیا، جس میں لڑکیوں کی ٹیکنیکل تعلیم سلائی کڑھائی اور کمپوٹر کو رس کا انتظام ہے۔ اسی کے ساتھ ایک وسیع کشادہ اور خوبصورت مسجد تعمیر کی اور اس سینٹر کا نام ’’افضل سینٹر ‘‘ رکھا۔ اہل خاندان کے باہمی مشورے سے گاؤں کی پوری زمین اس سینٹر کے نام سے وقف کردی گئی۔ امید ہے کہ وقف ہمارے والدین کے لیے جہاں توشۂ آخرت بنے گا ۔ ہمیں بھی اس کا کچھ حصہ ملے گا۔ انشاء اللہ!

ابا جان۔اہل وطن کی نظر میں

ابا جب گاؤں جاتے تو میں بھی ان کے ساتھ برابر جاتا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار جب ابا گاؤں گئے تو وہاں کوئی گھر نہیں تھا، جس کے مکین اُن سے ملنے نہ آئے ہوں۔ گاؤں پہنچنے پر چھوٹے بڑے سبھی لوگ ملاقات کے لیے آجاتے تھے۔ مطلب یہ کہ گاؤں علاقے کے لوگوں میں بھی ابا جان مقبول تھے اور لوگ ان کا ادب و احترام کرتے تھے۔

انسانی مساوات کا عملی نمونہ

ایک بار ہم ابا جان کے ساتھ گاؤں گئے تو ہمارے استقبال کے لیے تقریباً پورا گاؤں موجود تھا۔شیڈول کاسٹ سے تعلق رکھنے والا ایک چمار (ہریجن) ابا سے ملنے آیا۔ ابا نے اسے اپنی چارپائی پر بٹھانا چاہا مگر وہ ان کی برابری میں بیٹھنے کے لیے تیار نہ ہوا۔ لیکن بالآخر انھوں نے اسے سمجھابجھا کر اپنے برابر بٹھایا اور اس کی خیروعافیت دریافت کی، اس سے بات چیت کی اور اسے کچھ روپے بھی دیے۔

اس دوران ہمارے بڑے ابا کے جو صاحبزادے تھے، سامنے ہی بیٹھے تھے۔ انھوں نے اعتراض کیا کہ آپ نے اپنے برابر چمار کو کیوں بیٹھایا۔ ابا نے کہاکہ پہلے وہ چمار تھا، آج وہ انسان ہے۔ وہ میرے برابر بیٹھے گا۔ اور اس بات پر انھوں نے اپنے بھتیجے کو زور سے ڈانٹا کہ آج کے بعد سے تم اس کو اس کے نام سے پکارو گے، چمار نہیں کہوگے۔‘‘

آپ اندازہ کیجیے کہ ابا کے اس سلوک سے اس ہریجن کا دل کتنا بڑا ہوا ہوگا۔ ابا کے دل میں عام انسانوں سے محبت اور انسانی مساوات کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا تھا۔یہ واقعہ ان کی اعلیٰ انسانی سوچ کا ایک بہترین مظہر تھا۔

اس کے بعد جب ابا وہاں سے نکلے تو مجھے تاکید فرمائی کہ’’ جب بھی کسی سے تم ملنا تو کبھی اونچ نیچ کا خیال نہ کرنا۔‘‘

وہ اس طرح کا سبق مجھے چلتے پھرتے دیتے رہتے تھے۔ کبھی قصہ کہانی کے پیرائے میں تو کبھی بات چیت کے ذریعہ۔ جو کچھ انھوں نے بتایا اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی سبق سکھانے کا داعیہ کار فرما رہا۔

وہ سب سے قریب تھے ابا جان کے انتقال کے بعد اُن کے بارے میں ہر شخص یہی کہتا تھا کہ ہمارا ان سے خاص تعلق تھا۔ بالفرض اگر ابا بہت سارے لوگوں کو جانتے تھے تو ان میں سے ہر ایک کے ساتھ ان کا خاص تعلق تو نہیں ہوسکتا لیکن ان کو جاننے والا ہر آدمی یہی کہتا تھا کہ میرا اُن سے خاص تعلق تھا۔ اسی طرح کے ایک صاحب سے میں نے پوچھا کہ سال بھر میں وہ ابا سے کتنی بار ملتے تھے تو انھوں نے کہاکہ اگر دس سال میں بھی کبھی ان سے ملا تو ان کا رویہ ویسا ہی پایا جیسے عام حالات میں رہتا تھا۔

ابا جان کی گفتگو، نششت، برخاست، راستہ چلنے کا انداز ہر چیز میں ایک انفرادی شان جھلکتی تھی، وہ بازار میں چلتے تو نظر نیچی کرکے چلتے کہ مبادا غیر محرم خواتین پر نظر نہ پڑے۔ ایک بار کا ذکر ہے کہ ابا جان پان لینے کے لیے گھر سے بازار (چتلی قبر) نکلے۔ اسی اثناء میں، میں بھی گھر سے بازار نکلا۔ مغرب کا وقت تھا۔ میرے گھر سے نکلنے کے ایک آدھ منٹ بعد ابا پان لے کر گھر واپس آگئے۔ مجھے یہ معلوم تھا کہ ابا پان لینے جارہے ہیں اور وہ میرے بغل سے گزرے تھے، سڑک پر کوئی بھیڑ بھاڑ بھی نہیں تھی کہ میں انھیں نظر نہ آتا۔ بس ۳۔۴ آدمی بمشکل رہے ہوں گے، مگر ابا گھر جاکر امی سے پوچھ رہے ہیں کہ مُنّو کہا ں ہے؟ اور میں جب دس منٹ بعد گھر لوٹتا ہوں تو امی کہتی ہیں کہ تم نے اپنے ابا کو نہیں دیکھا؟ میں نے کہا کہ ابا تو میرے سامنے سے گزر کر گھر آئے ہیں۔

آج کی تاریخ میں جب ہم سڑک اور بازار کا جائزہ لیتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ دو تین منٹ میں ہمیں کوئی سڑک پر گرادے گا، مگر اس کے باوجود ابّا نگاہ اتنی نیچی کرکے چلتے تھے کہ اپنے برابر سے گزرنے والے کو بھی نہیں دیکھتے تھے کہ کون آجارہا ہے! وہ ہمیشہ نگاہ نیچی کرکے سیدھے چلتے تھے۔

افسوس ہے کہ ہم صحیح معنوں میں ابا جان کی پیروی نہیں کرسکے ۔

ابا کے انتقال کے بعد بنگلور، چنئی، حیدرآباد وغیرہ مقامات پر میرا آنا جانا ہوا۔ ابا کی جان پہچان کے لوگوں سے ملاقاتیں رہیں۔اس کے علاوہ یو.پی. میں بھی ان کے شناشاؤں سے ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں، دلی میں بھی ہوتی رہتی ہیں۔ لیکن آج تک ان کے بارے میں کسی نے کوئی منفی تبصرہ نہیں کیا۔ ایک شخص جب ہزار لوگوں سے ملے گا تو کوئی نہ کوئی اُس کے خلاف ضرور بولے گا خواہ وہ ان کی عمر کے لوگ ہوں یا چھوٹے یا بڑے۔ مگر آج تک ابا کے سلسلہ میں کوئی منفی بات کسی نے نہیں کہی۔ یہ ہمارے لیے بڑے فخر کی بات ہے۔ ایک عام مشاہدہ ہے کہ اگر دس آدمی ہمارے حق میں بولیں گے تو پانچ آدمی ہماری بُرائی کریں گے اور دوچار خاموش بھی رہیں گے۔لیکن والد مرحوم کے بارے میں ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی جو اُن کے مقام و منصب کے شایان شان نہ ہو۔ کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ انھوں نے ہمارے ساتھ زیادتی کی یا ہم پر پریشر ڈالا۔

غصے میں پیار کی جھلک

 

آپ کو تو یاد ہوگا کہ جب وہ کسی کو ڈانٹتے تھے تو اسے ’’بھلے آدمی‘‘ کہتے تھے۔ ’’بھلے آدمی! اگر ایسا کرلیتے تو کیا حرج تھا!‘‘

 

یہ تھا ان کا پیار بھرا مشفقانہ انداز !

اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے۔

زاہدانہ زندگی

ابا جان کی زندگی بڑی متقیانہ اور زاہدانہ تھی۔ مرکز جماعت میں آنے کے بعد کفاف پر اُن کی زندگی گزری۔ تنگی ترشی میں صبر و شکر کے ساتھ وقت گزارا۔ اس کا اندازہ آپ اس سے کرسکتے ہیں کہ ایک بار میں نے امی سے ایک اسکولی بستہ منگوانے کی فرمائش کی تو ان کا جواب تھا کہ تمھارے ابو کی آمدنی اتنی کہاں ہے کہ اس میں بستہ خریدا جاسکے۔ اس صورت حال کے باوجود جب بڑی آپا بلقیس فاطمہ صاحبہ کی شادی بسواں میں ڈاکٹر توکل صاحب سے ہوئی تو شادی کے بعد ابا جان نے بہن کے حصہ کا ملنے والا کفاف مرکز میں تحریر دے کر رکوا دیا کہ’’ میری فلاں لڑکی کی شادی ہوگئی ہے، اس کے حصہ کا کفاف روک دیا جائے۔‘‘میں تو اس وقت بہت چھوٹا ۶ برس کا تھا مگر یہ بات ہمارے بہنوئی توکل صاحب سے معلوم ہوئی اور بڑے بھائی جان نے بھی اس کی تصدیق کی۔۱؂

ہم لوگوں کو ان کی پوری زندگی میں ان کو ملنے والے مشاہرہ کا علم نہ ہوسکا اور نہ اس بارے میں ابا کو کبھی چرچا کرتے سنا۔ بس امی جان کو گھر خرچہ دے دیا کرتے تھے۔ حالانکہ ہماری فیملی میں بڑی بہن بلقیس آپا کے حصہ کا کفاف رکوا دینے کے بعد کچھ چہ می گوئیاں رہیں کہ اتنے افراد کا خرچ ہے بچوں کی پڑھائی لکھائی ہے آخر گھر کا خرچ کیسے چلے گا!

حُسنِ اِنتظام و انصرام

ابا ایک خوش سلیقہ اور کفایت شعار انسان تھے۔ مگر اس کے باوجود انھو ں نے گھر میں کبھی کسی چیز کی کمی نہیں محسوس ہونے دی اور کسی چیز کی افراط بھی نہیں ہونے دی۔ وہ بکرے کا گوشت بھی کھاتے تھے اور اچھا کھانا کھلاتے تھے اور اچھے کپڑے پہناتے تھے۔ ہماری تعلیم کا بھی انھوں نے اچھا بندوبست کیا اور گھر میں کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دی۔

ابا کے عام معمولات، عبادات اور اذکار و وظائف

ہمارے ابا کی زندگی بڑی روٹین لائف تھی۔ مطلب یہ کہ ان کے ہر کام کا وقت مقرر تھا اور اس وقت میں وہ وہی کام انجام دیتے تھے۔ میں نے اپنی زندگی میں اپنے معمولات کا اتنا پابند آدمی نہیں دیکھا۔ ان کا وقت بڑا سہانا ہوتا تھا اور پورے دن نمازوں کی طرف ان کا رجوع رہتا تھا۔

جب رام پور میں تھے تو وہاں بھی فجر کی نماز شہر کی جامع مسجد میں ادا کرتے تھے اور جب دلی آئے تو یہاں بھی جامع مسجد دہلی میں فجر کی نماز کا اہتمام بڑی پابندی سے کرتے رہے۔ نماز سے فارغ ہوکر تقریباً ایک کلو میٹر تک وہ صبح کی سیر اور ہوا خوری کرتے اور اردو پارک، اردو بازار ہوتے ہوئے وہ گھر واپس ہوتے۔ یہ ان کا روز مرہ کا معمول تھا۔

ابا جان کی صبح کی سیر و تفریح کی ایک خاص بات میں نے یہ نوٹ کی کہ سیر و تفریح سے واپسی پر جب وہ اپنے گھر کی سیڑھیوں پر چڑھ رہے ہوتے تھے تو سورہ کہف کی آخری آیت پوری ہورہی ہوتی تھی اور دروازے پر قدم رکھتے رکھتے وہ سورہ مکمل ہوجاتی تھی۔

 

تہجد کے علاوہ وہ اِشراق اور چاشت کی نمازوں کا بھی باقاعدہ اہتمام کرتے تھے، اَوراد و وظائف اس سے الگ ہیں۔

 

ابا اپنے اوقات کے اس قدر پابند تھے کہ ظہر کے وقت دفتر سے اٹھتے اور گھر آتے۔(ان دنوں ذمہ دارانِ مرکز اور کچھ کارکنوں کی مع فیملی رہائش مرکز جماعت کے احاطہ ہی میں تھی۔ مرتب) گھر والوں سے کہتے: اذان ہونے والی ہے، اٹھ جاؤ‘‘۔ پھر اذان ہوتی ۱؂ وہ وضو کرکے مسجد جاتے اور پہلی صف میں جابیٹھتے۔ ان کا یہی معمول دوسری نمازوں کے سلسلہ میں بھی تھا۔

عادات و خصائل:

ابو جان ایک خلیق اور ملنسار ، متواضع اور شریف النفس انسان تھے۔ وہ نرم دمِ گفتگو ، گرم دمِ جستجو کا ایک بہترین نمونہ تھے۔ ان کی خاص بات یہ تھی کہ وہ آہستہ بولتے تھے اور عورتوں سے تو اور بھی زیادہ دھیمی آواز میں بولتے تھے۔ وہ جب مسکراتے تھے تو تھوڑی دیر اسی حال پر باقی رہتے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ بہت کم مسکراتے تھے۔

غصہ کبھی نہیں کرتے تھے۔ کسی بات پر ٹوکتے تھے تو اچھے انداز میں ٹوکتے تھے اور کسی ناپسندیدہ بات کو نظر انداز بھی نہیں کرتے تھے۔ اگر کسی بات کی طرف انھیں توجہ دلانی ہوتی تھی تو اس پر ٹوکتے تھے چاہے وہ والدہ کا مسئلہ ہو یا بھائی جان کا یا بھتیجوں کا یا بچوں کا یا میری اہلیہ کا یا بہن بہنوئی کا جتنا جس کا حق تھا اسے کہتے تھے، چُپ نہیں رہتے تھے۔

گھر کے تمام افراد کو وہ وقت دیتے تھے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ جب کبھی ہماری کوئی بہن ہمارے گھر آتی تھیں تو جو روٹین کا وقت دفتر سے گھر آنے کا ہوتا تھا ، اس سے ہٹ کر بھی ۲۵۔۲۰ منٹ، آدھے گھنٹے کے لیے وقت نکال کر وہ اس کے لیے گھر آجاتے تھے۔

اہل خانہ اور اعزہ کے حق حقوق کی ادئیگی میں ایسا نہیں تھا کہ دفتر کا کام متاثر ہوتا ہو۔ وہ دیر دیر رات تک دفتر میں بیٹھ کر اپنے فرائض کی انجام دہی میں ہمہ تن مشغول رہتے تھے۔ اللہ ان کی قبر کو نور سے بھردے۔

بحیثیت مجموعی انھوں نے اپنی پوری زندگی کا ایک خاص اثر ہمارے اوپر چھوڑا لیکن انھوں نے ہم سے کبھی یہ نہ کہا کہ اگر میری زندگی نہ رہی تو کیا ہوگا؟ یا یہ کہ اگر میری زندگی نہ رہے تو یہ کرنا اور وہ کرنا!

سرکاری ملازمت سے استعفیٰ

ابا جان نے تعلیم سے فراغت کے بعد محکمۂ تعلیم فیض آباد یوپی میں نارمل اسکول (ٹیچرس ٹریننگ اسکول) میں ملازمت اختیار کی۔ یہاں سے جھانسی اور جھانسی سے بستی ان کا ٹرانسفر ہوا۔( وہ نارمل اسکول میں وائس پرنسپل تھے۔) جماعت اسلامی ہند سے باقاعدہ وابستگی کے بعد انھوں نے سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے دیا اور جماعت کو اپنی ہمہ وقتی خدمات سپرد کردیں اور ملیح آباد۔ جماعت کے اولین مرکز آگئے۔

وہ مردِ فقیراَولیٰ

مرکز جماعت سے وابستگی کے بعد ابا نے ۱۴ سال تک گاؤں کا رخ نہیں کیا۔ دراصل ابا نے جب مرکز جماعت ملیح آباد مستقل طور پر آنے کا ارادہ کیا اور سرکاری ملازمت چھوڑی تو اس کی سب سے زیادہ مخالفت ہمارے بڑے ابو نے کی، اور یہ کہہ کر مخالفت کی کہ:

’’اس کو پڑھایا لکھایا اور روپے خرچ کیے تاکہ یہ کمائے مگر جب کمانے کا وقت آیا تو اب یہ نوکری چھوڑ کر اس (جماعت) میں جارہا ہے۔‘‘

ابا دنیا سے رخصت ہوگئے، لیکن اس بات کا انھوں نے کبھی کسی سے ذکر نہیں کیا۔ لیکن یہ سب باتیں اب اس لیے سب کو معلوم ہورہی ہیں کہ گھر خاندان کے سب لوگ بڑے ہوگئے ہیں، ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور باہم باتیں ہوتی ہیں اور بحمداللہ ہم سب کے آپس کے تعلقات خوشگوار ہیں۔ میرے حالیہ سفرِ بستی میں ایک نئی بات یہ معلوم ہوئی کہ ابا نے سرکاری ملازمت سے جو استعفیٰ دیا اس میں یہ وجہ لکھی تھی کہ’’ تعلیم کا یہ طریقہ جسے میں پڑھا رہا ہوں، اسلامی نظریہ سے ٹھیک نہیں ہے۔‘‘

ابا کا استعفیٰ دیکھ کر متعلقہ افسر (آئی آر خان)عبادالرحمن خاں نے کہا: تم نے استعفیٰ کی وجہ ایسی لکھی ہے کہ میں تمھیں استعفیٰ نہیں دینے دیتا اور تمھیں جانے نہیں دیتا۔‘‘ افسر مذکور کا کہنا تھا کہ اتنا جوان آدمی آگے چل کر جس کی ترقی کے اتنے مواقع ہیں آخر کیوں مستعفی ہورہا ہے؟ واضح رہے کہ جس افسر کو ابا نے استعفیٰ سونپا تھا وہ بھی مسلمان تھے۔ واضح رہے کہ جس وقت ابا نے سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دیا اس وقت ان کی عمر ۲۸ سال تھی۔

فرض شناشی کی بے نظیر مثال

رام پور کے زمانۂ قیام کی بہت سی باتیں قابل ذکر ہیں۔

 

باوجود اس کے کہ ابا جان درسگاہ اسلامی کے ناظم اور ہمہ وقتی ذمہ دار تھے لیکن کسی کو کبھی ڈانٹتے نہیں تھے اور کسی کو کبھی کچھ کہتے نہیں تھے۔ اس کے باوجود ان کا سارا کام پورا ہوتا تھا۔ صبح سویرے سے لے کر ایک بجے تک وہ درسگاہ میں رہتے، پھر ظہر کی نماز پڑھ کر گھر آتے تھے، کھانا کھاتے تھے اور پھر مرکز جماعت چلے جاتے تھے اور کتابیں لکھنے میں مصروف ہوجاتے تھے۔

 

عصر اور مغرب کے درمیان درسگاہ کے بچے ہاکی اور فٹ بال کھیلتے تھے اور ابو اُن کے آس پاس رہ کر اُن کی نگرانی کرتے تھے، بصورت دیگر  ہوتے تھے۔ مغرب بعد گھر آکر کھانا کھاتے تھے۔ اس کے بعد مجھے لے کر وہ مطبخ  جاتے تھے۔ میس میں جانے کا دو مقصد ہوتا تھا۔ وہ ہر روز (مطبخ )میس میں ایک نئے آدمی کے ساتھ بیٹھتے تھے تاکہ ان سے میس کے انتظامی پہلوؤں پر تبادلۂ خیال ہوسکے۔ ان کا دوسرا بڑا مقصد یہ جاننا ہوتا تھا کہ میس کے کھانے کا معیار کیا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ باورچی اپنی مرضی سے پکا اور کھلا رہے ہیں! وہ دسترخوان پر بیٹھ کر یہ سب چیزیں دیکھتے تھے۔ مگر کھاتے کچھ نہیں تھے اور یہ کہہ کر وہ کھانے سے معذرت کرتے تھے کہ ’’میں نے کھانا کھالیا ہے اور پان بھی کھالیا ہے۔ میں کچھ نہیں کھاؤں گا۔‘‘

یہ تھا ابا کا معیارِ تقویٰ اور یہ تھی احساس ذمہ داری کہ پورا دن مصروف گزارنے کے باوجود رات میں بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنے سے گریز نہیں کرتے تھے۔میس میں وہ لوگوں سے بیٹھے باتیں کرتے رہتے تھے اور کسی کو کھانے پر ٹوکتے نہیں تھے، اور کھانے کے معیار اور کوالٹی پر نظر رکھتے تھے، پھر وہاں سے چپ اٹھتے تو مطبخ کے وسیع و عریض احاطے کا ایک چکر لگاتے تھے اور یہیں سے گھر لوٹ جاتے تھے۔

مرکز جماعت اسلامی رام پور کا نقشہ

اب مرکز جماعت رام پور کا نقشہ ذہن میں لائیے۔ پورے مرکز کی ایک باونڈری تھی اور اس کا ایک بڑا پھاٹک تھا۔ اس کے اندر مرکز کا دفتر تھا، اسی حاطہ میں یوسف صاحب کی رہائش گاہ تھی۔ پھر ابواللیث صاحب کی اور اس کے بعد ہماری رہائش تھی اور اسی کے درمیان مرکز تھا۔ ماشاء اللہ مرکز بہت بڑے ایریے میں تھا۔ اس میں چھوٹے چھوٹے دفتر تھے اور درمیان میں بڑا گراؤنڈ تھا۔ اس میں کام کرنے والے آدمی بس چند تھے، لیکن ایریا بہت بڑا تھا۔ مرکز کا یہ احاطہ کھنڈسار کہنہ یا پرانی کھنڈسار میں واقع تھا، جہاں سے درسگاہ اسلامی تقریباً ایک کلو میٹر دوری پر تھی مرکز جماعت اسلامی ہند کے دہلی منتقل ہونے کے بعد مرکزی درسگاہ سے قریب ہم لوگ کرایے کے ایک مکان میں رہنے لگے تھے۔

’’فن تعلیم و تربیت‘‘ کی تکمیل

ابا جان نے قیام دہلی کے ابتدائی سالوں میں ایک اور کام کیا تھا، وہ مرکز سے چھٹی لے کر ایک سال کے لیے رام پور چلے گئے تھے۔ اس دوران انھوں نے رام پور میں رہ کر اپنی کتاب ’’فن تعلیم و تربیت‘‘ پوری کی تھی۔ یہ کتاب مکمل کرنے کے بعد پھر وہ کوئی اور کتاب نہیں لکھ پائے۔

ایمر جنسی کی یادیں

۲۵؍جون ۱۹۷۵ء کو ملک میں ایمرجنسی لگی تو جماعت اسلامی بھی بے وجہ حکومت کے عتاب کا شکار ہوئی۔ جب جماعت پر پابندی لگی تو اس کے ذمہ داروں اور ارکان کو حوالہ زنداں کیا گیا۔ ابا جان بھی سرکاری مہمان بنے اور اس طرح ان کا استقبال کیا کہ ۳ مہینے تک انھیں دہلی کے تہاڑ جیل میں رکھا گیا اور اس کے بعد ان کے اہل خانہ و متعلقین اور جماعت کے لوگوں کو پتہ نہیں لگنے دیا گیا کہ انھیں کس دنیا میں رکھا گیا ہے۔

کچھ عرصہ بعد پنجاب سے آنے والے ایک غیرمسلم کے ذریعہ انھوں نے اطلاع بھجوائی کہ وہ بھٹنڈہ جیل میں ہیں۔

میں تو بچپن سے ہمیشہ ابا جان کے ساتھ رہا۔ کہیں سفر پر کچھ دن چلا گیا تو وہ دوسری بات ہے ورنہ میں ہمیشہ ان کے ساتھ رہا۔

پنجاب کی بھٹنڈہ جیل میں جب ان سے ملنے جانا ہوتا تو میں اکثر پیر  کو اکیلا جاتا اور مہینے میں ایک بار والدہ جاتی تھیں۔

جیل میں ابا سے ملاقاتوں کے دوران ہم نے محسوس کیا کہ جیل میں ہونے کے باوجود ابا کو ہم سے زیادہ خود ہماری اور امی کی فکردامنگیر رہتی تھی۔ جب ہم ابا کے پاس جاتے تھے تو ملاقات کے لیے وقت کی کوئی قید نہیں رہتی تھی، سارے دن ان کے ساتھ رہتے تھے۔

مُنو بھائی یہ کہتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے کہ ابو گھر واپس جانے کے لیے کہتے کہ ٹرین کا وقت ہوگیا ہے

ملاقات کے دوران ابا ایمر جنسی کی، سیاست کی یا اور لوگوں کے بارے میں کوئی بات نہیں کرتے تھے۔ مرکز کے بارے میں یا ارکان وغیرہ کے بارے میں بھی ہم سے کوئی گفتگو نہیں کرتے تھے۔

وہ مجھے اپنے ساتھ بیٹھا کر رکھتے تھے اور ساتھ میں بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے۔مگر قید و بند کے اس پورے عرصہ (۱۸ مہینے)میں انھوں نے کبھی ہمارا حوصلہ نہیں توڑا اور نہ اُن کی باتوں سے ہمیں کہیں ناامیدی کی جھلک نظر آتی تھی۔

وجہ تسمیہ ’’قمر افضل طلعت‘‘

ایک شخص کے اگر کئی کئی نام اور عرفیت ہوں تو ذہن میں قدرتی طور پر یہ سوال پیدا ہوگا کہ اصل نام کیا ہے؟ اور اس کی موجودگی میں اتنے سارے نام کیوں ہیں؟

چنانچہ ہمارے اس تجسس آمیز سوال پر مُنُّو بھائی نے یہ وضاحت پیش کی:

ہمارے ایک بھائی جو شمیم آپا سے بڑے تھے، ان کا نام قمر الہدیٰ تھا، ان کا بچپن ہی میں انتقال ہوگیا۔ میری پیدائش پر ابّا نے میرا نام بھی یہی رکھ دیا۔ امی جان کو کسی وجہ سے یہ نام پسند نہیں تھا۔ چنانچہ ابا جان نے بعد میں اسے قمر افضل سے بدل دیا۔ جب اسکول میں میرا داخلہ ہوا تو اس موقع پر ابا نے میرا جو برتھ سرٹیفیکٹ پیش کیا اس میں ’’قمر افضل طلعت‘‘ لکھا تھا۔ میں نے ابا جان سے جب اس تبدیلی کی وجہ پوچھی تو ابا نے بتایا کہ تمھارا پورا نام یہی ہے۔ اس نام میں ’’طلعت‘‘ جڑنے کی وجہ یہ رہی کہ ۱۹۵۴ء میں جب میری پیدائش ہوئی تو اس کے قریبی زمانے میں اخوان کے ۶۔۵ لیڈروں حسن ہضیبی وغیرہ کو پھانسی دے دی گئی تھی۔ انھی میں طلعت یوسف نام کے ایک اخوانی لیڈر بھی تھے۔ انھی کے نام پر ابا نے میرے نام کے ساتھ یہ لفظ جوڑ دیا۔ ابا کو یہ ’’طلعت‘‘ نام زیادہ پسند تھا۔ وہ مجھ سے کہتے تھے کہ تم اپنا نام سب سے ’’طلعت‘‘ کہلوایا کرو لیکن یہ نام کوئی جانتا نہ تھا۔

جب میں نے دلّی یونیورسٹی سے ملحق کروڑی مل کالج میں داخلہ لیا تو داخلہ رجسٹر میں ’’قمر افضل‘‘ درج ہونے سے رہ گیا۔ چنانچہ لوگ مجھے ’’طلعت‘‘ کہنے لگے۔ اس طرح ابا جان کی مرضی پوری ہوئی۔

اب اگر مجھے کوئی ’’قمر‘‘ کہہ کر آواز دے گا تو میں یہ سمجھوں گا کہ یا تو ہمارے یہاں سے اس کے گھریلو تعلقات ہیں یا پھر وہ گیارہویں کلاس سے پیچھے کا ساتھی ہے۔ اور اگر کوئی ’’طلعت‘‘ کہہ کر پکارے گا تو یہ سمجھوں گا کہ یہ کالج یا اس سے آگے کا ساتھی ہے۔ اب میں نے اسے مختصراً ’’قمر افضل طلعت‘‘ کرلیا ہے۔

اور یہ ’’مُنّو‘‘ میرا گھریلو نام ہے جس کا ذکر ابا جان نے ’’ہماری کتاب‘‘ حصہ اوّل میں ’’مُنّو کی بلّی‘‘ کے زیر عنوان کیا ہے

’’مُنُّو نے اک بلّی پالی بلّی پالی کالی کالی

اور یہ اس وقت کی بات ہے جب میری عمر ۲ ۔۳ سال رہی ہوگی۔ مجھے یہ بھی نہیں یاد کہ وہ بلی کالی تھی یا سفید ! ہاں، صرف اتنا یاد ہے کہ گھر میں ایک بلی تھی۔ یہ ابا جان کی اپنی اولاد سے محبت کا ایک مظہر ہے کہ انھوں نے میرے گھریلو نام  مُنُّو کو درسی کتاب میں منظوم شکل میں درج کرکے اسے شہرتِ دوام عطا کردی اور گھر، خاندان کے لوگ مجھے اسی نام سے جانتے اور پکارتے ہیں۔

میری تعلیم

جہاں تک خود میری اپنی تعلیم کاسوال ہے تو جب میں پانچ سال کا ہوا تو ابا نے میرا داخلہ مرکزی درسگاہ اسلامی رام پور میں کرادیا۔ ۱۹۶۴ء میں جماعتی ضرورت کے تحت ابا جان کو مرکز جماعت دہلی بلالیا گیا۔ اس وقت میں پانچویں جماعت میں تھا۔ اتفاق سے اس سال میں فیل ہوگیا تو ابا مجھے رام پور سے دہلی لے آئے۔ابا نے مجھے ایک سال اپنے ساتھ رکھ کر تیاری کرائی۔

 

ابا کا انوکھا کارنامہ

نیا تعلیمی سال شروع ہونے پر انھوں نے مجھے اینگلو عربک اسکول اجمیری گیٹ ٹیسٹ دینے کے لیے بھیجا۔ اس وقت وہاں یہ طریقہ رائج تھا کہ پانچویں جماعت کا ٹیسٹ دو تو چھٹی جماعت میں، اور چھٹی کلاس کا ٹیسٹ دو تو ساتویں جماعت میں داخلہ ہوتا تھا۔ چنانچہ جب میں نے پانچویں جماعت کا ٹیسٹ دیا تو از روئے قاعدہ چھٹی جماعت میں داخلہ ہونا چاہیے تھا، لیکن داخلہ ہوا ساتویں جماعت میں۔ اس طرح میرا ایک سال بچ گیا۔ دراصل یہ ابا جان کی محنت کی بدولت ممکن ہوا کہ ایک سال میں ۲ سال کا کورس پورا ہوگیا۔ اس طرح ان کی تصنیف کردہ ’’فنِ تعلیم و تربیت‘‘ کا عملی فائدہ مجھے حاصل ہوا۔ پھر تو جب تک میری اسکولی تعلیم جاری رہی میں ہمیشہ فرسٹ آتا رہا اور ایسا صرف ابا جان کی وجہ سے ہوا!

اس کامیابی کا راز یہ تھا کہ پورے ایک سال تک میری تیاری کا سلسلہ جاری رہا۔ اپنی مشغولیات میں سے وقت نکال کر ابا مجھے پڑھاتے تھے۔ صبح سات بجے سے وہ اپنا کام کرتے رہتے تھے اور ساتھ ہی مجھے پڑھنے کی تاکید کرتے رہتے تھے۔ یہ سلسلہ ظہر کے وقت چلتا رہتا تھا۔ ظہر کی نماز پڑھ کر کھانا کھاکر پھر مجھے پڑھانے بیٹھ جاتے تھے اور پھر کہتے تھے کہ تھوڑی دیر جاکر کھیل کود آؤ۔ پھر مغرب بعد مجھے اپنے ساتھ لے کر بیٹھ جاتے تھے اور کچھ نہ کچھ بتاتے رہتے تھے کیوں کہ مغرب اور عشاء کے درمیانی وقفہ میں مرکز جماعت میں لوگ آپس کی باتیں کیا کرتے تھے۔ اگر اس دوران ابا سے کوئی ملنے آگیا تو اپنا کام چھوڑ کر اس سے باتیں کرتے تھے۔ آپ نے مرکز میں انھیں دیکھا ہوگا کہ مغرب سے عشاء کے درمیان وہ غیر رسمی گفتگو اور ذاتی ملاقاتیں کرتے تھے اور اس وقفہ میں کھانا کھالیتے تھے۔ عشاء بعد پھر کام کرنے بیٹھ جاتے تھے اور یہ سلسلہ گیارہ بجے رات تک چلتا رہتا تھا۔

وہی دفتر، وہی رہائش گاہ!

آپ کو یہ بتاتے چلیں کہ شروع شروع میںیہاں مرکز جماعت دلّی میں ابا تنہا رہتے تھے، فیملی رام پور ہی میں تھی۔ یہاں مرکز میں ان کے آفس کا کمرہ ان کی رہائش گاہ بھی تھا اور یہیں ان کا بستر لگا ہوا تھا اور مرکز کے  میں وہ کھانا کھاتے تھے۔

اس کے بعد وہ اپنی حد سے بڑھی ہوئی دفتری مشغولیات کی وجہ سے مجھے پڑھانے کے لیے وقت نہیں فارغ کرسکے، البتہ مغرب اور عشاء کے درمیان جو وقت ہوتا تھا اس میں وہ اپنے ساتھ مجھے لے کر روزانہ ٹہلتے تھے۔ ایسا بھی ہوتا کہ کبھی مغرب بعد کھانا کھا کر لیٹتے تو مجھے قصے کہانیاں سناتے لیکن زیادہ تر قصے کہانیاں قرآن مجید سے متعلق ہوتی تھیں۔

جب ہم بڑے ہوئے اور معلومات کا دائرہ کچھ وسیع ہوا تو سمجھ میں آیا کہ ابا جان کے سنانے ہوئے قصے کہانیوں کا خمیر قرآن مجید میں ہے۔

امتحان کی تیاری کے تیر بہ ہدف نسخے ابا جان ایک ماہرِ تعلیم تھے اور ان کی تعلیمی مہارت ، قابلیت اور ان کے قیمتی تجربات کا فائدہ بے شک ہم لوگوں یعنی ان کی اولاد کو ملا۔ انھوں نے ہمیں اسباق یاد کرنے اور امتحان کی تیاری کا ایسا ہنر سکھایا کہ ہماری امتحانی کاپی دیکھ کر ممتحن بھی حیران اور ششدررہ جاتے تھے۔

انھوں نے ہمیں بتایا کہ امتحان کی تیاری کے دوران اسباق کی سرخیاں اور ذیلی سرخیاں نوٹ کرتے رہو اور آخری وقت میں اسے پڑھ ڈالو۔

اس طرح ان سرخیوں کے استحضار سے متعلقہ مضامین بھی مستحضر ہوجاتے تھے۔اور تمام سوالات کے پورے پورے جوابات لکھ دیتے تھے۔

ابا کی ہدایت تھی کہ جس روز امتحان ہو اُس کی رات پڑھائی مت کرو اور دماغ کو آرام دو۔ چنانچہ ہم ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ خدا کا شکر ہے کہ ان کی ہدایات پر عمل کرنے کے نتیجہ میں ہم ہمیشہ فرسٹ آتے رہے۔ ہم نے یہی طریقہ ہوٹل مینجمنٹ کے امتحان میں بھی اختیار کیا۔ قانون Law کے پرچہ کا امتحان تھا۔ میں نے سارے سوالات کے جواب لکھ دیے تھے۔ امتحان کا وقت ختم ہونے پر جب امتحانی کاپیاں جمع کی گئیں تو میری کاپی دیکھ کر ممتحن نے ہوا میں لہراتے ہوئے پوچھا: یہ کس کی کاپی ہے ؟ میں نے کہا : میری! اس کا خیال تھا کہ من و عن کتاب کا جواب اس میں موجود ہے، طالب علم نے ضرور نقل کیا ہوگا، مگر میری وضاحت پر وہ مطمئن ہوگیا کیوں کہ مجھے وہ سارے جوابات یاد بھی تھے۔

ابا نے امتحان کی تیاری کا ایک گُر یہ بتایا کہ جو کچھ یاد کیا ہے، اسے لکھ کر ذہن نشیں کرنا چاہیے۔ جوابات لکھتے رہنے سے حافظے میں وہ چیزیں محفوظ ہوجاتی ہیں اور پرچہ حل کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ یہ عمل امتحان کی تیاری کے آخری دن بطور خاص کرنا چاہیے۔

تلاشِ معاش اور ابا جان کی رہنمائی

اینگلو عربک اسکول اجمیری گیٹ سے گیارھویں پاس کرنے کے بعد دلّی یونیورسٹی سے ملحق کروڑی مل کالج سے میں نے آرٹ سائڈ سے گریجویشن تو کرلیا تھا مگر یہ جاب  کے نقطۂ نظر سے کچھ سود مند ثابت نہیں ہوا۔ اس وقت ملازمت کے لیے ٹیکنکل کورسزکی ڈِمانڈ تھی۔ اس لیے میں کوئی ڈیڑھ سال نِٹھلا گھر بیٹھا بور ہوتا رہا اور فرسٹیشن کا شکار رہا مگر ابا کو اس معاملے میں کبھی کوئی تشویش نہیں رہی۔ وہ مجھے ہمیشہ سمجھاتے رہے کہ کوشش کرتے رہو، انشاء اللہ کچھ نہ کچھ ہوجائے گا۔

ابا جان کے اندر وسعتِ نظر اور وسعتِ فکر تھی، تنگ نظر اور دقیانوسی خیالات نہیں رکھتے تھے۔ہرچیزکو بہت وسیع تناظر میں دیکھتے تھے۔

جاب کی تلاش جاری تھی۔ دوست احباب سے بھی جاب کے مواقع کے سلسلہ میں بات چیت ہوتی رہتی تھی۔ ایک روز میں اس خیال سے پوسا انسٹی ٹیوٹ گیا کہ کوئی ایسا کورس مل جائے، جس سے ملازمت کا حصول یقینی ہوجائے۔ بارہویں جماعت میں ، میں نے ٹاپ کیا تھا اور میرا فیصدی شرح بہت اونچا تھا۔ چنانچہ میں نے وہاں دو ایک سال کا کئی کورس ڈھونڈھا کہ اسے مکمل کرکے ملازمت مل جائے۔ یہاں ہوٹل مینجمنٹ کا کورس بھی ملا اور مزید معلومات کرنے پر پتہ چلا کہ یہاں ایسے ۱۴ اعلیٰ درجہ کے ٹیکنکل مضامین ہیں۔ اگر ایک سال کا کورس کیا جائے تو ورکنگ کلاس کی ملازمت ملے گی۔اور اگر دو سال کا کورس کیا جائے تو سپروائزر بنیں گے اور ۳ سال کا کورس کرنے کی صورت میں انتظامی عملہ  میں لیے جائیں گے۔ میں نے اس کورس کے بارے میں مزید معلومات حاصل کیں تو پتہ چلا کہ اگر یہ کورس کرلیا جائے تو کالج کیمپس سے ہی یقینی طور پر جاب مل جائے گی، اس کی سو فیصد گارنٹی ہے۔

دراصل میں ہوٹل مینجمنٹ کا کورس کرنا چاہتا تھا۔ اور آپ کو معلوم ہے کہ ہوٹل کا عام تصور ہی شراب و شباب اور عیاشی سے عبارت ہے۔

پھر ایک روز ڈرتے ڈرتے ابا سے میں نے عرض کیا کہ ہوٹل مینجمنٹ کا کورس کرنا چاہتا ہوں، کالج کیمپس سے ہی ڈائرکٹ پلیس منٹ مل جائے گا۔

ہمارے ذہن میں جتنے خدشات تھے ان سب کو نظر انداز کرتے ہوئے ابا نے مجھے سو روپے دیئے کہ جاؤ، ہوٹل مینجمنٹ کا پراسپکٹس اور فارم لے آؤ۔یہ ۱۹۷۶ء ؁ کی بات ہے۔

پراسپکٹس لایا تو ابا نے اسے ۳۔۴ دن تک اپنے سرہانے رکھا اور اپنی عادت اور معمول کے مطابق اسے اچھی طرح پڑھا۔ پھر بولے کہ اس کورس کے لیے تمھیں ساٹھ فیصد نمبر درکار ہیں میں نے عرض کیا کہ مجھے تو اس سے کہیں زیادہ یعنی 69.75% نمبرات ملے ہیں۔ پھر انھوں نے کہا کہ اس میں دوسری چیز یہ لکھی ہے کہ میرٹ کی بنیاد پر تمھارا انٹرویو ہوگا۔ اگر اس انٹرویو میں کامیاب ہوجاتے ہو تو تمھیں کسی کی سفارش کی ضرورت ہوگی۔ اور دیکھو، میں سفارش کے سلسلہ میں کسی کو نہیں جانتا اور نہ میں اس کے لیے کسی سے سفارش کروں گا۔

خیر، انٹرویو ہوا اور میرا سیلیکشن ہوگیا۔ فائنل انٹرویو کے لیے ہم کئی بار پوسا انسٹی ٹیوٹ گئے اور متعدد لوگوں سے ملاقاتیں کی۔ کئی بار اندازہ ہوا کہ یہاں جو لڑکے پڑھنے آتے ہیں وہ بہت (متمول اور صاحب حیثیت) گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ سب اونچے درجے کے افسروں کے لڑکے تھے۔ کوئی کم حیثیت کا نہیں تھا۔ وہاں پڑھنے والے لڑکے بہت ہائی پروفائل کے تھے۔ کالجوں کے عام ماحول سے ہٹ کر تھوڑا مہذب ، شائشتہ اور تعلیم یافتہ لوگوں کا ماحول نظر آتا تھا۔

 

میں نے والد صاحب کے سامنے یہ پوری صورت حال رکھ دی اور ان سے کہا’’ میرا سیلکشن ہوگیا ہے، میرا فائنل انٹرویو ہے، اور مجھے سفارش چاہیے۔‘‘ بولے: میں کسی کو نہیں جانتا۔ پھر آہستہ سے کہا کہ مسلم صاحب (مدیر اعلیٰ سہ روزہ دعوت) کے پاس جاؤ اورانھیں یہ بات بتاؤ۔ میں دوسرے دن مسلم صاحب کے پاس گیا اور ان کے سامنے پوری بات رکھی۔ انھوں نے میری مشکل آسان کردی۔ اللہ انھیں کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔

دراصل ابا جان نے ہوٹل منجمنٹ کا کورس کرنے کی جو اجازت دی اور اس کے لیے سہولت دی اور رہنمائی بھی کی تو یہ جانتے ہوئے، انھوں نے اجازت دی تھی کہ ہوٹل کا اندرونی ماحول اخلاقی اعتبار سے پراگندہ ہوتا ہے، مگر ان کے سامنے یہ چیز بھی رہی کہ اس کورس کے اندر جو ۱۴ مضامین شامل ہیں وہ آئندہ زندگی کی تعمیر و تشکیل میں اہم رول ادا کرنے والے ہیں اور اس کے ذریعہ انتظامی صلاحیت پروان چڑھے گی۔ یہ ابا جان کی دور اندیشی اور ان کی وسیع النظری کی بات تھی۔ اس کورس کے چند خاص مضامین یہ تھے۔ اکاؤنٹنگ، مینجمنٹ، قانون، صفائی ستھرائی، تغذیہ، گھر گرہستی  کھانا بنانے سے لے کر کھلانے پلانے کے انتظامات، کھانا پکانے کا عملی تجربہ، ریستراں ، فرنٹ آفس وغیرہ۔

اب ہمارے لیے ایک اور مشکل مرحلہ تھا فیس کا ! جو ۳ قسطوں میں ہر تیسرے مہینے جمع کرنی تھی اور ہر قسط 3500 - 4000/- کی تھی جس میں ٹیوشن فیس ، ٹریننگ فیس ، یونیفارم فیس شامل تھی۔ابا جان نے یہ رقم مجھے عنایت کی اور خدا خدا کرکے یہ کٹھن مرحلہ بھی طے ہوگیا۔

ہوٹل میں ملازمت

پانچ ستارہ ہوٹل کے مخصوص ماحول میں ملازمت کرنے کے سلسلہ میں نہ تو ابا نے کبھی مجھے کوئی ہدایت کی، نہ مشورہ دیا اور نہ پوچھا کہ ہوٹل میں جو شراب کباب کا ماحول ہوتاہے، اس سے کیسے بچوگے؟ نہ یہ کہا کہ اس کے سلسلہ میں کیا کرنا ہے کیوں کہ انھیں میرے اوپر اعتماد اور بھروسہ تھا کہ مُنُّو اس لت سے محفوظ رہے گا۔

شراب کا اثر سماجی زندگی پر کس حد تک ہے، یہ معلوم و معروف ہے۔

امتحان /انٹرویو پاس کرلینے کے بعد جب مجھے ہوٹل میں جاب مل گئی تو اس کے دو سال بعدآپ اباکے ساتھ ہمارے ہوٹل میں آئے تھے۔ دراصل ابا ہوٹل میں یہ دیکھنے آئے تھے کہ ہم یہاں ہوٹل میں کس طرح رہتے ہیں اور ہمارا کیا طور طریقہ رہتا ہے۔ ابا کا مزاج یہ تھاکہ وہ بعض کام محض اتفاقیہ طور سے کرتے تھے۔ لیکن درحقیقت اس میں ان کا ارادہ شامل ہوتا تھا ، اور ہمارے ہوٹل میں انکا اچانک آنا دراصل اسی نوعیت کا تھا ۔ وہ دیکھنا یہ چاہتے تھے کہ میں کرتا کیا ہوں۔ اسی کا اثر تھاکہ جب آپ لو

افضل حسین ؒ قائدینِ تحریکِ اسلامی کے احساسات

  • افضل حسینؒ ۔ایثار وقربانی کاپیکر

    انعام الرحمن خاں، بھوپال

    (سابق امیر حلقہ مدھیہ پردیش)

    اس کی امیدیں قلیل،اس کے مقاصد جلیل ۱۹۴۵ء میں مولانا سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ فرمایا تھا: ’’۔۔۔ ہم دراصل ایک ایسا گروہ تیار کرنا چاہتے ہیں جو ایک …

    مزید

  • وہ فنا فی الجماعت ہوگئے تھے

    محمد حسنین سید

    درس گاہ اسلامی، دربھنگہ، بہار

    مولانا افضل حسین صاحب رحمۃ اللہ علیہ سراپا اخلاص اور فنا فی الجماعت تھے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور فردوس میں جگہ دے۔ آمین!

    ان سے میری پہلی ملاقات ۱۹۴۵ء میں پٹنہ میں ہوئی …

    مزید

  • وہ ماں کی طرح مہربان و شفیق تھے

    جناب اعجاز اسلم صاحب

    سکریٹری جماعتِ اسلامی ہند

    میں مولانا سے سب سے پہلے کی ان کی تیار کردہ درسی کتابوں کے ذریعہ متعارف ہوا۔پھر ۱۹۷۷ء میں ریاست تمل ناڈو کی امارت سنبھالنے کے بعد بار بار مرکز آنے کا موقع ملا۔ اس طرح مختلف …

    مزید

  • افضل حسینؒ نے جماعت کی تاریخ بنائی

    سیّد جلال الدین عمری

    سابق مدیر ماہنامہ زندگی نو،نئی دہلی

    ابھی۲۲؍نومبر ۱۹۸۹ء کو مولانا سلمان ندوی مدیر سہ روزہ دعوت اور عربی جریدہ الدعوۃ، (نئی دہلی) کے انتقال کا صدمہ ہم سب لوگوں کو برداشت کرنا پڑا کہ صرف پانچ ہفتے بعد …

    مزید