Latest Updates
TO BUY “ ANY BOOKS” PLEASE CONTACT PUBLISHER

Home/ احباب کی نظر میں

پیکرِ اخلاص قیم جماعت

مولانا ولی رحمانی

سابق ڈپٹی چیئرمین بہار لجسلیٹو کاؤنسل، پٹنہ

ٹیلی فون کی گھنٹی بجی، میں نے ریسیور اٹھایا۔ مولانا وصی احمد صدیقی کی مانوس آواز تھی۔ علیک سلیک کے بعد انھوں نے کہا: ’’قیم صاحب کا انتقال ہوگیا۔ تدفین (قبرستان) مہندیان میں ہوئی۔ میں بھی شریک تھا۔‘‘ سب کچھ سمجھتے ہوئے دل نے خبر کو قبول نہیں کیا۔ میں نے دریافت کیا: ’’کون قیم صاحب؟‘‘’’ مولانا افضل حسین صاحب قیم جماعتِ اسلامی‘‘ ان کاجواب تھا۔ ’’انا للّٰہ و انا الیہ راجعون۔ ایک اور جگہ خالی ہوگئی۔‘‘ ٹھنڈی سانس کے ساتھ میرے زیرِ لب یہ جملہ نکل گیا۔

 

واقعی جگہ خالی ہوگئی، یہ دنیا ہے، یہاں کوئی نہ کوئی جگہ تو لے ہی لیتا ہے

خلا محال ہے دنیا کے کارخانے میں

 

کل کو مرکز جماعتِ اسلامی میں وہ کرسی بھی پُر ہوجائے گی۔ کوئی قیم ہوگا ہی، مگر ’’قیم صاحب‘‘ والی بات کہاں سے آئے گی! ایسے لوگ نایاب نہ سہی، کمیاب ضرور ہوتے ہیں۔ وہ ’خاموشی و پُرکاری، بے خودی و ہشیاری‘ کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔ خاموشی کے ساتھ کام میں اخلاص و مسکراہٹ کی حلاوت ان کا شعار تھا، ترتیب اور سلیقے کی چھاپ ان کے ہر کام میں ہوتی تھی۔ قیم صاحب سے پہلی ملاقات ان کی کتابوں کے ذریعہ ہوئی تھی، باقاعدہ ملاقات مفتی صاحب(مفتی عتیق الرحمن عثمانی) کے یہاں ہوئی، اس وقت وہ رام پور سے دہلی منتقل ہوچکے تھے اور مرکز جماعت اسلامی ہند میں اہم خدمات ان کے سپرد تھیں۔ جماعت اور جماعتی لحاظ سے میرا ان کا تعلق نہ تھا، لیکن مختلف دینی اور ملّی معاملات میں ان سے رابطہ ہوتا رہتا تھا، گفتگو کی نوبت آتی رہتی تھی۔ میں نے بار ہا محسوس کیا کہ جماعت کے ساتھ مکمل اخلاص اور وفاداری کے ساتھ غیر جماعتی حلقہ سے ان کا معاملہ بڑے اخلاق اور رواداری کا رہا کرتا تھا۔ وہ مختلف دینی، تعلیمی اور ملّی تحریکات سے دلچسپی لیتے رہتے تھے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ کسی جماعت سے استواری کے زینے دوسری جماعتوں سے دوری کے ساتھ طے کیے جاتے ہیں اور کسی جماعت سے وفاداری کا مطلب دوسری جماعتوں سے عناد سمجھا جاتا ہے۔ یہ تحزب پسندی سیاسی اندازِ نظر کا تحفہ ہے، ورنہ جو جماعتیں دینی اورملّی خدمات انجام دے رہی ہیں،ان میں یہ فصل اور فاصلہ نہیں ہونا چاہیے۔ مگر نگاہیں دیکھ رہی ہیں کہ رُحَمَاءُ بَیْنَہُمْ کی الٹی عملی تشکیل ہورہی ہے۔ قیم صاحب اس مرض سے دور تھے اور دامن بچا کرچلتے تھے۔

وہ اختلافِ رائے کو برداشت کرنا جانتے تھے اور جماعتی نقطۂ نظر کو نرم انداز میں مجلسوں میں رکھا کرتے تھے۔ چنانچہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور کل ہند مسلم مجلس مشاورت کی نشستوں میں بار بار اس کا تجربہ ہوا۔ ان کا یہ طریقہ جماعتی نقطۂ نظر سے مفید تھا اور اس طرح جماعت کی صحیح نمائندگی ہوجاتی تھی، مگر نقطۂ نظر کی طاقت، مجلسوں میں حِدّت نہیں پیدا ہونے دیتی تھی۔مشترکہ پلیٹ فارموں میں یہ طریقہ کار مفید ہوتا ہے۔ نجی مجلسوں میں بھی وہ اختلافِ رائے اور سخت جملوں کو دلآویز مسکراہٹ کے ساتھ جھیلتے اور کبھی چند جملوں میں اپنی بات کہہ جاتے۔ مجھے یاد ہے، مفتی(عتیق الرحمن عثمانی، صدر کل ہند مسلم مجلسِ مشاورت) صاحب کے یہاں وہ تشریف رکھتے تھے، میں بھی حاضر تھا۔ چائے آئی، وائے کے طور پر کوئی بسکٹ بھی تھا۔مفتی صاحب نے اس چھوٹے بسکٹ کا چھوٹا سا ٹکڑا لے لیا اور چکھ کر  جی ہاں اسے چکھنا ہی کہا جاسکتا ہے، ورنہ اتنے چھوٹے ٹکڑے کے لیے ’’کھانا‘‘ استعمال کیا جائے، توٹکڑے کا وزن بڑھ جائے گا۔ کہنے لگے: میاں! اسے بھی جھیل لیجیے۔ میں نے بسکٹ حلق سے اتارا تو سمجھ میں آیا کہ مفتی صاحب نے اسے ’’جھیل‘‘ لینے کو کیوں کہا، یہ بہت زیادہ نمکین تھا۔ میرے منھ سے نکل گیا: حضرت! اسے توجماعتِ اسلامی سے خاص نسبت ہے۔ انھوں نے فرمایا: ’’کیا مطلب؟‘‘ عرض کیا کہ ’’جماعت کے فکرِ دین میں سیاسی نمک کی مقدار توازن سے خاصی زیادہ ہے۔ دونوں ہی بے ساختہ ہنس پڑے۔ مفتی صاحب نے اتنا ضرور کہا کہ ’’ان کے تبصرے خطرناک ہوتے ہیں، مگر واقعہ سے دور بھی نہیں ہوتے۔‘‘ میں نے دیکھا ،قیم صاحب بسکٹ اور میرے جملہ دونوں کو جھیل گئے، یہ ان کے مزاج و انداز کی بات تھی اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ جماعتی کاموں میں ڈھیل دیتے ہوں، یا جماعتی مفاد کو نظر انداز کرجاتے ہوں۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ دوسروں سے استواری کی حد کیا ہے اور جماعتی وفاداری کا دائرہ کیا! اس معاملے میں چھوٹی باتیں بھی ان کی نگاہ میں رہتی تھیں۔ (ہمارا رسالہ) ’’ایثار‘‘ نکل رہا تھا۔ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انھوں نے اس کے دو شمارے دکھائے اور شکایت کی: مولانا! آپ کا اخبار ہماری خبروں کو کاٹ چھانٹ کر شائع کرتا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ ’’(آپ کا) دعوت (اخبار) تو جامعہ رحمانی، خانقاہ رحمانیہ اور امارتِ شرعیہ کی خبروں کو کبھی کبھی گول ہی کرجاتا ہے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کی خبروں کی بھی ایڈیٹنگ ہوجاتی ہے۔ جب کہ ’’دعوت‘‘ جماعتی اخبار کے ساتھ ملی سرمایہ ہے۔ ’’ایثار‘‘ نہ جماعتی ہے اور نہ معروف معنی میں مِلّی۔ قیم صاحب نے بڑی محبت سے کہا کہ بھئی، آپ ٹکنیکل جواب دے رہے ہیں۔ میں مولانا محمد ولی رحمانی سے شخصی طور پر کہہ رہا ہوں۔‘‘ (چنانچہ) میں نے ہتھیار ڈال دیے اور عرض کیا کہ یہ خبر جماعت کے دفتر سے جاری کی گئی تھی، وہ جیسی تھی چھاپ دی گئی۔ (اسی رسالہ میں) ’’ایثار‘‘ کے رپورٹر کی بھی خبر چھپی ہے، اسے دیکھ لیجیے۔ حسنِ اتفاق سے وہ شمارہ میرے ساتھ تھا، پیش کردیا۔ انھوں نے پڑھ لیا اور کہا کہ یہ شمارہ میری نظر سے نہیں گزرا۔ مجھے سوءِ ظن ہوگیا تھا، جو بحمداللہ دور ہوگیا۔‘‘ مجھے اس واقعہ سے اندازہ ہوا کہ جماعتی مفاد کی چھوٹی باتیں بھی ان کی نگاہوں سے اوجھل نہیں رہتیں۔

ایک سچے مسلمان کی حیثیت سے دین پر عمل کا پہلو اُن کے یہاں غالب رہا کرتا تھا، جماعت کے عام مزاج سے کچھ ہٹ کر وہ اوراد و وظائف کے بھی پابند تھے۔ یہ شاید ان کا ذاتی ذوق تھا، ممکن ہے، بچپن میں گھریلو تربیت کا اثر ہو۔ میں نے دیکھا، نماز کے ساتھ سنتوں کا پورا اہتمام کرتے تھے اور نماز سے فراغت کے بعد کچھ وقت تسبیحات میں بھی لگاتے تھے۔ ان کی زندگی کا یہ پہلو بھی قابلِ قدر اور لائقِ تقلید تھا۔

بہتر سال کی عمر میں ان کی صحت جیسی (کچھ) تھی، اسے خراب نہیں کہا جاسکتا۔ میری ان سے آخری ملاقات پچھلے ستمبر میں بستی حضرت نظام الدین (ویسٹ) کے بنگلہ نمبر۱۳ میں ہوئی، جہاں ندوۃ العلماء کا ذیلی دفتر ہے۔ بڑے خلوص اور معصوم سی مسکراہٹ کے ساتھ معانقہ کیا جس میں بے تکلفی بھی تھی، اپنائیت کا احساس بھی اور بڑے کی شفقت بھی! اس وقت یہ شبہ بھی نہ تھا کہ یہ ملاقات آخری دیدار ہے! بعد میں ایک آدھ بار بیماری کی خبر ملی، مگر بڑے ہلکے انداز میں۔ میں نے سمجھا، کھانسی، نزلہ قسم کی چیز ہوگی۔ انھوں نے ہرنیا کا آپریشن کرایا، اسی دوران انھیں یرقان ہوگیا اور یہ بھی پتہ چلا کہ پتّے میں کینسر ہے، یہ سہ طرفہ جھٹکا وہ برداشت نہیں کرسکے اور نئے سال ۱۹۹۰ء کے پہلے دن صبح تقریباً ۹؍بجے ربِ غفور کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اللہ تعالیٰ انھیں اپنی مغفرت سے نوازے۔ ان کے مدارج بلند کرے اور ان کی خدمات کو خَلق اور خالق کے دربار میں قبولیت حاصل ہو۔

(آمین)

’’بھلے آدمی‘‘

مولانا وحیدالدین خاں

صدر اسلامی مرکز، نئی دہلی۔۱۳

جناب افضل حسین صاحب ایم.اے.،ایل.ٹی. ۲؍جنوری ۱۹۱۸ء کو ضلع بستی میں پیدا ہوئے۔ اور یکم جنوری ۱۹۹۰ء کو دہلی میں ان کی وفات ہوئی۔ تعلیم کے بعد انھوں نے ایک اسکول میں سروس کرلی تھی۔ بعد کو وہ جماعتِ اسلامی سے متاثر ہوئے اور اپنی خدمات جماعت کے لیے وقف کردیں۔ مرحوم کی نشوونما ایک ایسے دور میں ہوئی جب کہ مسلمانوں میں قربانی دے کر کام کرنے کا جذبہ تھا۔ اس وقت تک یہ ممکن تھا کہ اعلیٰ صلاحیت کے افراد بھی اسلام کی خدمت کے لیے حاصل کیے جاسکیں۔ وہ تمام لوگ جو کوئی اسلامی ادارہ چلارہے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ آج حالات بالکل مختلف ہیں۔

موجودہ صدی کے وسط تک یہ امید کی جاسکتی تھی کہ کوئی ’’افضل حسین‘‘ اپنی صلاحیتوں کو ایک اسلامی تحریک کے حوالے کردے۔ اب صدی کے آخر میں حالات اتنے بدل چکے ہیں کہ آج کسی اسلامی تحریک کو ’’اصغر حسین‘‘ تو مل سکتے ہیں، مگر ’’افضل حسین‘‘ کوئی بھی ملنے والا نہیں۔ میں ۱۹۵۶ء سے ۱۹۶۲ء تک رام پور میں تھا۔ اس زمانہ میں میں جماعت اسلامی کے شعبۂ تصنیف و تالیف سے وابستہ تھا۔ یہیں پہلی بار افضل حسین صاحب سے ملاقات ہوئی۔ متواضع انداز، منکسرانہ گفتگو، اظہارِ خویش سے بے نیاز، اپنے آپ کو ہمیشہ پیچھے رکھنے والے، یہ افضل حسین صاحب کا حلیہ تھا، جو اول دن سے لے کر آخری دن تک ان کی ذات میں قائم رہا۔

رام پورمیں وہ جماعت کی مرکزی درسگاہ کے ناظم کی حیثیت سے بلائے گئے تھے۔ مولانا ابواللیث اصلاحی ندوی (امیر جماعتِ اسلامی) نے ایک روز بتایا کہ افضل حسین صاحب جب نارمل اسکول جھانسی کی ملازمت سے مستعفی ہوکر رام پور آئے تو میں نے پوچھا کہ آپ کا مشاہرہ کیا مقرر کیا جائے۔ افضل حسین صاحب نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس وقت میرے سامنے میز پر سو سو روپے کے کچھ نوٹ پڑے ہوئے تھے۔ آخر میں نے کہا کہ اس میں سے آپ جتنا ضروری سمجھیں لے لیجیے۔ افضل حسین صاحب نے کسی تردد کے ساتھ ایک نوٹ اٹھایا، ابتدائی طور پر یہی ان کا مشاہرہ تھا۔ افضل حسین صاحب کو میں نے کبھی غصہ ہوتے ہوئے نہیں دیکھا۔ اختلافی گفتگو کے وقت ان کا آخری لفظ ’’بھلے آدمی‘‘ ہوتا تھا۔ بوقت اختلاف جب وہ خاص انداز میں مسکراتے ہوئے ’’بھلے آدمی‘‘ کہتے تو ان کی بات دلیل کے بغیر بھی اتنی وزنی ہوجاتی تھی کہ آدمی یا تو ان کی بات مان لیتا تھا یا کم از کم اس کی شدت میں کمی آجاتی تھی۔

افضل حسین صاحب ماہنامہ الرسالہ کے مستقل قاری تھے، ان کی خواہش پر ایک بار میں نے الرسالہ کے پرانے پرچے ہدیتاً فراہم کیے تھے۔ غالباً وہ الرسالہ کی باقاعدہ فائل رکھتے تھے۔ ایک بار مرکز جماعت اسلامی (چتلی قبر) میں کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ ان میں کچھ ایسے افراد بھی تھے جو جماعت کے مقصد کے تحت نکلنے والے اخبار یا رسالہ کے ایڈیٹر تھے۔ ان میں سے ایک صاحب نے کہا کہ آج کل جماعت کے لوگو ں کا حال یہ ہے کہ وہ ’’الرسالہ‘‘ زیادہ پڑھتے ہیں اور ہمارے پرچے کم۔افضل حسین صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا:’’ لوگ کیا کریں، ریڈیبل میٹر تو الرسالہ ہی میں ہوتا ہے۔‘‘

افضل حسین ؒ قائدینِ تحریکِ اسلامی کے احساسات

  • افضل حسینؒ ۔ایثار وقربانی کاپیکر

    انعام الرحمن خاں، بھوپال

    (سابق امیر حلقہ مدھیہ پردیش)

    اس کی امیدیں قلیل،اس کے مقاصد جلیل ۱۹۴۵ء میں مولانا سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ فرمایا تھا: ’’۔۔۔ ہم دراصل ایک ایسا گروہ تیار کرنا چاہتے ہیں جو ایک …

    مزید

  • وہ فنا فی الجماعت ہوگئے تھے

    محمد حسنین سید

    درس گاہ اسلامی، دربھنگہ، بہار

    مولانا افضل حسین صاحب رحمۃ اللہ علیہ سراپا اخلاص اور فنا فی الجماعت تھے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور فردوس میں جگہ دے۔ آمین!

    ان سے میری پہلی ملاقات ۱۹۴۵ء میں پٹنہ میں ہوئی …

    مزید

  • وہ ماں کی طرح مہربان و شفیق تھے

    جناب اعجاز اسلم صاحب

    سکریٹری جماعتِ اسلامی ہند

    میں مولانا سے سب سے پہلے کی ان کی تیار کردہ درسی کتابوں کے ذریعہ متعارف ہوا۔پھر ۱۹۷۷ء میں ریاست تمل ناڈو کی امارت سنبھالنے کے بعد بار بار مرکز آنے کا موقع ملا۔ اس طرح مختلف …

    مزید

  • افضل حسینؒ نے جماعت کی تاریخ بنائی

    سیّد جلال الدین عمری

    سابق مدیر ماہنامہ زندگی نو،نئی دہلی

    ابھی۲۲؍نومبر ۱۹۸۹ء کو مولانا سلمان ندوی مدیر سہ روزہ دعوت اور عربی جریدہ الدعوۃ، (نئی دہلی) کے انتقال کا صدمہ ہم سب لوگوں کو برداشت کرنا پڑا کہ صرف پانچ ہفتے بعد …

    مزید