Latest Updates
TO BUY “ ANY BOOKS” PLEASE CONTACT PUBLISHER

Home/ اہلِ خانہ اور خاندان کے تاثرات

ابا جان

میرے معلم و مربی بھی تھے

عمر افضل

اِتھاکا، امریکہ

 

ابا جان کے سلسلہ میں دو باتیں عرض ہیں: افضل حسینؒ صاحب مرحوم، نہ صرف میرے والد صاحب تھے بلکہ اصلاً وہی میرے معلم اور مربی بھی تھے۔ بچپن سے ہی انھوں نے میری تعلیم و تربیت میں ان اصولوں کو مدنظر رکھا جو بعد میں اپنی معرکۃ الآراء تعلیمی و نظریاتی کتاب ’’فن تعلیم و تربیت‘‘ میں جمع کردیا۔ آج میں جو (کچھ) بھی ہوں اُنھی کی تعلیم و تربیت کا ثمرہ ہوں۔

عمر افضل

پی.ایچ.ڈی. کارنیل(U.S.A.)

اسلامی اقدار پر مبنی نصاب تعلیم

ڈاکٹر توکل حسین و بلقیس فاطمہ بسواں ، یو.پی

(افضل حسینؒ صاحب کے بڑے داماد اور بڑی صاحبزادی)

محترم افضل حسینؒ صاحب بنیادی طور پر ایک ماہرِ تعلیم تھے۔ ان کی روزمرہ کی زندگی اور ان کے شب و روز کے معمولات میں سنتوں کا بڑا اہتمام تھا جو کم لوگوں میں پایا جاتا ہے۔

مرحوم ملنسار اور خوش اخلاق تھے۔

بچوں کی تعلیم و تربیت میں ا ن کا ایک نمایاں مقام ہے۔ بچوں میں گھل مل کر وہ اس طرح ہوجاتے تھے، جیسے وہ ان کے خاندان کے ایک فرد ہوں۔

شروع سے ہی ان کے اندر ملت کی بے لوث خدمت کا جذبہ موجزن تھا۔ مگر اس کے باوجود وہ خود کو نمود و نمائش سے بہت دور رکھتے تھے۔

قومی اور ملکی مسائل میں ان کی رائے پختہ تھی۔ ان کے اندر اپنی بات منوانے کا جذبہ نہیں تھا۔ان کی زندگی میں سادگی تھی۔ وہ کبھی کسی سے اپنی ضروریات کے بارے میں تذکرہ بھی نہیں کرتے تھے۔ جس طرح انھوں نے اعلیٰ سرکاری ملازمت سے سبکدوش ہوکر کفاف پر زندگی بسر کی وہ نہایت قابلِ قدر ہے۔ وہ اپنے بچوں کو بھی اسی ایثار و قربانی کی نصیحت کیا کرتے تھے۔

زمین دار ہوتے ہوئے زمین داری سے فائدہ اٹھانا وہ اپنے لیے نامناسب سمجھتے تھے۔ اپنی زندگی کی آخری سانس تک وہ قوم کی اصلاح کی فکر میں لگے رہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے کتابیں بھی تصنیف کیں۔ اسلامی اقدار پر مبنی پورا نصاب تیار کرنا یہ اُنھی کا کارنامہ تھا۔

اللہ پاک ان کو قبر میں کروٹ کروٹ چین نصیب فرمائے اور دارین میں بہترین اجر عطا فرمائے۔

ابا جیسا انسان

میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا

محمد سلیمان و برجیس فاطمہ، دہلی

(داماد و دختر افضل حسینؒ مرحوم)

ابا جان ایک نرم خُو، مُنکسر مزاج، خوش اخلاق اور خوش اطوار انسان تھے۔ خاموش طبیعت کے مالک تھے۔ دھیمی آواز میں بولتے تھے۔ اتنی دھیمی آواز میں کہ بعض اوقات ہمیں بھی بمشکل سنائی دیتا تھا۔

ابا جان نے ہماری بہت اچھی تربیت کی۔ ان جیسا مخلص اور بے لوث محبت کرنے والا انسان میں نے آج تک اپنی زندگی میں نہیں دیکھا۔

ایسے تھے ہمارے ابا جان

مخدوم خاں و وسیم فاطمہ۔ رام پور

(داماد و دختر افضل حسین مرحوم)

(۱)

افضل حسینؒ صاحب مرحوم کی تیسری بیٹی وسیم فاطمہ میری بیوی ہیں۔ وہ انھیں ابا کہا کرتی تھیں، اس ناطے میں بھی انھیں ابا ہی کہا کرتا تھا۔ زندگی میں سیاسی، غیر سیاسی؛ جماعتی، غیر جماعتی ہزاروں افراد سے میرا رابطہ رہا مگر ان ہزاروں افراد میں پانچ سات آدمی ہی ایسے ہوں گے جن سے میں غیر معمولی طور پر متاثر رہا۔ افصل صاحب مرحوم ان میں سے ایک تھے۔ بڑی مکمل شخصیت تھے وہ!

(۲)

دیکھا گیا ہے کہ انسان، جماعتی زندگی میں بہت زیادہ ذمہ داریاں ہونے پر ذاتی اور گھریلو معاملات میں کچھ لاتعلق ہوجاتا ہے۔ کبھی کبھی عبادات کے معاملے میں بھی محسوس ہوتا ہے کہ کچھ کوتاہی یا کمی ہورہی ہے مگر افضل صاحب کا معاملہ کچھ عجیب ہی تھا۔ ان کی رات کے نوافل ، صبح کی تلاوت اور اشراق کی نمازوں میں بھی بڑی پابندی تھی۔

(۳)

 

وقت پر دفتر جانا اور پورے وقت وہاں رہنا یہ ان کا ہمیشہ معمول رہا۔ ایسا کبھی نہیں دیکھا کہ وہ اپنی جگہ پر نہ ہوں اور دفتر سے بلاوا آیا ہو۔

 

(۴)

وہ ایک بڑے خاندان کے سرپرست اور ذمہ دار تھے۔ دو بیٹے، دو بہوئیں، چار بیٹیاں، چار داماد، سب الگ الگ حیثیت اور الگ الگ سوچ کے لوگ؛ مگر ابا سب کے مسائل سے باخبر رہتے تھے اور حسب موقع و ضرورت انھیں مناسب مشورے دیتے تھے۔ اس کام کے لیے وہ پابندی سے خطوط لکھا کرتے تھے۔

میرا معاملہ کچھ الگ سا تھا۔ جب ملتے تھے تو گھر اور بچوں پر گفتگو کے علاوہ سیاسی معاملات پر بہت گفتگو کرتے تھے۔ میرے مزاج کا لحاظ کرتے ہوئے گفتگو میں بہت ہنستے بھی تھے۔ ایک بار ان کی چھوٹی بہو نے میری بیوی سے کہا:

’’ابا تو مخدوم صاحب سے دوستوں کی طرح ہنستے ہیں۔‘‘

(۵)

میری بیوی وسیم فاطمہ بتاتی ہیں کہ چونکہ بہنوں میں سینے پرونے اور کڑھائی کا شوق مجھے سب سے زیادہ تھا، اس لیے میری دلچسپی کو دیکھتے ہوئے بہت چھوٹی عمر میں ابا جان سلائی کے لیے کپڑے اور بُنائی کے لیے اُون لاکر مجھے دیا کرتے تھے۔ اسکول کے ٹیچروں کے سوئیٹر وہ مجھ سے بنوا کر دیا کرتے تھے۔ اس کے بعد گھر کے لوگوں کے سوئیٹربنے جاتے تھے اور پھر آگے چل کر یہ شوق اور ہنر اپنے بچوں کے کام آیا۔

(۶)

ابا جان کو بچوں کے پڑھنے لکھنے سے ایک فطری لگاؤ تھا۔ ایک بار وہ مرکزی درسگاہ رام پور کے کسی فنکشن میں آئے تھے۔ میرا بچہ شہباز اس وقت دوسری جماعت میں زیر تعلیم تھا۔ میں اسے ریاضی کے کچھ سوالوں کی مشق کرارہی تھی۔ ابا میرے برابر میں بیٹھے پان لگارہے تھے۔ مگر بچے پر بھی ان کی نظر تھی۔ اسی درمیان میں میں شہباز سے کچھ جوڑ گھٹاؤ کے سوال زبانی بھی پوچھے جارہی تھی اور وہ بڑی تیزی سے جواب دے رہا تھا۔ ابا نے شہباز کے سر پر ہاتھ رکھ کر میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:

’’وسیم! تیرا بچہ بہت آگے جائے گا۔‘‘

ان کی دعاؤں کا اثر ہے کہ شہباز آج ’’ڈاکٹر شہباز زیدی

ایم بی بی ایس ہے۔

 

(۷)

ایک بار دوسرے دونوں چھوٹے لڑکے اسکول سے آئے اور حسب معمول اسکول بیگ رکھ کر تکیے اٹھا لیے اور بغیر کچھ کہے ایک دوسرے کو مارنے لگے، اور یہ ان بچوں کا روز مرہ کا معمول تھا۔ابا نے میری طرف دیکھا تو مجھے شرم محسوس ہوئی کہ وہ میرے بارے میں کیا خیال کررہے ہوں گے کہ میں نے ان بچوں کی کیسی تربیت کی ہے!

ابا نے کہا: وسیم! ذہین بچے پڑھائی کے ساتھ کھیلنے میں بھی تیز ہوتے ہیں۔‘‘

چنانچہ وقت گزرنے کے ساتھ ابا کا یہ خیال صحیح نکلا۔

 

الحمدللہ آج میرا دوسرا چھوٹا بیٹا ضیاء مخدوم خاں

بی ٹیک مکینیکل انجینر ہے اور سعودی عرب کی ایک بڑی کمپنی میں منیجر ہے۔

 

(۸)

رام پور میں ایک بار کرایہ کے ایک مکان میں ہم لوگ پانچ سال رہے۔ ایک بار ابا نے ہم تین بہنوں کو کسی بات پر زور سے ڈانٹا۔ پڑوس کی لڑکیوں نے ہنس کر کہا:

’’آج پانچ سال میں پہلی بار اس شخص کی آواز سنی ہے۔‘‘

میرے ابا اس طرح گھر پر رہتے تھے۔

اپنی بہو کی نظر میں

سلمیٰ نزہت افضل

اِتھاکا۔نیویارک۔(امریکہ)

کئی دن سے ابا جان بار بار یاد آرہے ہیں۔ گھر کے دوسرے لوگوں کی طرح میں بھی تو انھیں ابا جان ہی کہتی تھی اور وہ بھی مجھے اپنی بیٹیوں کی طرح عزیز رکھتے تھے۔ کیا شخصیت تھی؟ اتنی سادگی! ہر ایک سے پیار۔ انھوں نے اپنی ساری زندگی دوسروں کے لیے وقف کردی تھی۔ کبھی انھوں نے زور سے کوئی بات نہیں کی۔ میں نے ان کو کبھی غصہ ہوتے نہیں دیکھا۔ ہر وقت ان کے چہرے پر مسکراہٹ رہتی تھی۔ وہ بچوں سے بہت پیار کرتے تھے اور بچے بھی ہر وقت دادا جان کی تعریف کرتے رہتے تھے، اگرچہ ان کا ادب بھی کرتے تھے۔

میری شادی بہت کم عمری میں ہوگئی تھی، مگر مجھے اتنا پیار اور محبت ملا کہ اسے میں بیان نہیں کرسکتی۔ میرے والد صاحب سے ابا جان کی پرانی دوستی تھی۔ وہ بھی ان کی بہت تعریف کرتے تھے۔ اتنے اعلیٰ تعلیم یافتہ آدمی، اتنی بڑی ملازمت چھوڑ کر جماعتِ اسلامی میں آئے! انھوں نے اپنی کتابوں کی رائلٹی کا ایک پیسہ نہیں لیا۔ ہمیشہ مسلمانوں کے لیے کام کرتے رہے۔ بچوں اور بڑوں۔ دونوں کے لیے بہت ساری کتابیں لکھیں۔ میں ان کی کتابیں بہت شوق سے پڑھتی تھی۔ ایک دفعہ والد صاحب کسی شادی سے واپس آئے تو بہت خوش تھے۔ انھوں نے دونوں گھرانوں کی بہت تعریف کی۔ والدہ صاحبہ سے کہنے لگے: خوب جوڑا ملا ہے۔ افضل حسین صاحب کی بیٹی سے یوسف صاحب کے بیٹے کی شادی ہوئی ہے۔‘‘ مجھے صرف اتنا ہی یاد ہے۔ کیونکہ اس وقت میں بہت چھوٹی تھی۔

میری شادی کے چند سال بعد ہی میرے والد صاحب کا انتقال ہوگیا۔ مت پوچھیے کہ مجھ پر کیا گزری ! ایسا لگتا تھا جیسے مجھ سے کوئی بہت قیمتی چیز چھین لی گئی ہو۔ کیونکہ مجھے ان سے بے حد محبت تھی۔ وہ بھی مجھے بہت پیار کرتے تھے۔ ’ابا جان‘ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا۔ تسلّی دلائی اور اگلے ۲ مہینے جب تک میں امریکہ نہیں چلی آئی مسلسل ڈھارس بندھاتے رہے۔ ایک بار امّی جان(خوشدامن صاحبہ) وطن گئی ہوئی تھیں۔ مغرب کا وقت ہوگیا۔ ابا جان مغرب کی نماز کے فوراً بعد کھانا کھانے کے عادی تھے۔ میں کھانا پکانے میں لگی ہوئی تھی اور بچی رو رہی تھی۔ اتنی دیر میں ابا جان نماز پڑھ کر واپس آگئے۔ انھوں نے بچی کو جلدی سے گود میں اٹھا لیا اور ٹہلانے لگے۔ وہ سوگئی۔ میں نے کھانا لگادیا۔ کہنے لگے: تم کو پہلے بچی کو دیکھنا چاہیے تھا۔ میں نے کہا: ابا جان! کھانے کو دیر ہورہی تھی۔ کہنے لگے: کچھ دیر سے کھالیتے، کوئی بات نہیں تھی۔

ہم لوگ ۱۹۷۴ء  میں امریکہ آگئے۔ یہاں آنے کے بعد مجھے سب لوگوں کی یاد بہت ستاتی رہی۔ ٹیلی فون پر تو کبھی کبھار ہی بات ہوتی۔ مگر خط و کتابت ہوتی رہتی تھی۔ ابا جان کے خطوط پڑھ کر مجھے خوشی ہوتی تھی۔ وہ ہمیشہ مجھے الگ سے خط لکھتے اور میری اور بچوں کی خیروعافیت لکھنے کی تاکید کرتے۔

ان کو ۱۹۷۸ء  میں صرف ۲ ہفتے کے لیے یہاں (امریکہ) آنے کا موقع ملا۔ ہم لوگوں سے مل کر ان کو بہت خوشی ہوئی۔ ہمارے گھران سے ملنے کے لیے لوگوں کی آمد و رفت جاری رہی۔ بہت سے لوگوں نے ان کو اپنے گھر کھانے پر مدعو کیا۔ یہاں پر دوسرے شہروں میں بھی ان کی تقریریں رکھی گئیں۔ لوگ ان کا بہت ادب کرتے تھے۔ وہ بھی ہر ایک کے ساتھ بہت محبت اور نرمی سے پیش آتے تھے۔ میں نے لوگوں سے ان کے بارے میں تعریفیں ہی سنیں، کوئی برائی کبھی نہیں سنی۔ مجھے اپنی زندگی میں ابھی تک اتنا نیک، صابر، سادہ، اور خوش مزاج آدمی نہیں دکھائی دیا۔ اب بھی ان کا نورانی مسکراتا ہوا چہرہ میری آنکھوں میں سمایا ہوا ہے151 ہُو بہو اُن کی تصویر کی طرح جو ہمارے لیونگ روم کے شوکیس میں لگی ہوئی ہے۔ مجھے تو یقین ہی نہیں آتا کہ ابا جان اس دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں۔

۱۹۸۴ء  میں دوبارہ ابا جان امریکہ آئے۔ ہم سب لوگ ان کو لینے نیویارک سٹی ائرپورٹ گئے۔ کار سے ڈھائی سو میل کا سفر جس میں ۵ گھنٹے لگتے ہیں اس دن بہت جلدی ختم ہوگیا۔ ہم لوگ بہت خوش تھے۔ بچوں سے تو انتظار ہی نہیں ہورہا تھا۔ سامنے کسی کو شیروانی اور ٹوپی میں دیکھتے ہی بچے شور مچادیتے کہ وہ ہیں دادا جان! مگر وہ سب سے آخر میں ائرپورٹ سے نکلے۔ رات نیویارک میں گزارکر دوسرے دن صبح ہم لوگ اِتھاکا کے لیے روانہ ہوئے۔ ابا جان کافی تھکے ہوئے تھے۔ اس لیے وہ آرام کرنے چلے گئے۔ یوں بھی ان کی صحت بہت کمزور تھی۔

۱۹۸۴ء میں رمضان شریف جون میں شروع ہوئے۔ابا جان کافی کمزور تھے۔ پھر بھی انھوں نے روزے رکھنے کی کوشش کی۔ یہاں پر جون میں دن کافی لمبے ہوتے ہیں ۔ تقریباً سولہ گھنٹے کا دن ہوتا تھا۔ اور سحری ملا کر ساڑھے سترہ گھنٹے کا روزہ! ہم لوگوں نے بہت کہا کہ ابا جان ! ہم غریبوں کو کھانا کھلادیں گے، آپ روزہ نہ رکھیں۔ دوپہر بعد ہی سے ان کے چہرے پر کمزوری کا اثر ظاہر ہونے لگتا تھا۔ ہم لوگوں نے ان کی کافی خدمت کی۔ ان کا ہر طرح سے خیال رکھا۔ ان کی صحت ماشاء اللہ کافی اچھی ہوگئی۔ وقت گزرتا گیا۔ ۴ مہینے پلک جھپکتے گزرگئے۔ ان کے جانے کا دن آگیا۔ سب ہی بہت اداس تھے۔ ابا جان بھی بہت خاموش خاموش تھے۔ مجھے یاد ہے کہ انھوں نے اس دن کھانا بھی ٹھیک سے نہیں کھایا۔ بہت مشکل سے ہم لوگ ان کو خداحافظ کہہ سکے۔ یہی حال ان کا بھی تھا۔

دو سال پہلے ہم لوگ ہندوستان گئے۔ سب سے مل کر ابا جان کو بہت خوشی ہوئی۔ میری چھوٹی بیٹی سعدیہ ان سے بہت ہِل مِل گئی تھی۔ ان کے ساتھ دفتر چلی جاتی۔ گھنٹوں ان کے ساتھ رہتی۔ دادا جان سے اس کو کافی لگاؤ تھا۔ کیوں کہ وہ بھی اس سے بہت محبت کرتے تھے۔ اس کو کھانے پینے کا سامان لاکر دیتے رہتے تھے۔ اس کا کافی خیال رکھتے تھے۔

نومبر ۱۹۸۹ء  میں معلوم ہوا کہ ابا جان کی طبیعت کچھ خراب ہے۔ میرے شوہر تو یہ سنتے ہی کہ انھیں اسپتال میں داخل کرادیا گیا ہے، فوراً ہندوستان چلے گئے۔ میں نے کئی بار ٹیلی فون پر خیریت معلوم کی اور ان کی صحت کے لیے یہاں دعائیں مانگتی رہی۔ میرے شوہر دسمبر ۱۹۸۹ء ؁ کے آخری ہفتے میں واپس آگئے تو ذرا اطمینان ہوا۔ اس کے بعد جو خبر آئی وہ بڑی دھماکہ خیز تھی۔

انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔

’فنِ تعلیم و تربیت‘ نے میری زندگی بدل دی

افضل حسین ؒ کی چھوٹی بہوریشما پروین کے تاثرات

افضل حسینؒ صاحب مرحوم کا نام محتاجِ تعارف نہیں بلکہ اس نام کے حوالے سے کسی شخص کا متعارف ہونا بھی بذاتِ خود قابل فخر بات ہے، اور مجھے یہ فخر ۲۰۰۸ء  میں اس وقت حاصل ہوا جب میری تقرری ’’اینگلو عربک نرسری اینڈ پرائمری اسکول، ترکمان گیٹ، دہلی میں بطور ٹیچر ہوئی۔ وہاں مجھے مختلف مضامین مثلاً انگریزی، اردو، ریاضی اور سائنس وغیرہ پڑھانے کے ساتھ دینیات کا مضمون بھی پڑھانے کا موقع ملا۔ دینیات کی کتاب کا نام تھا ’’سچا دین‘‘ جس کے مصنف تھے جناب افضل حسین مرحوم۔ اس کتاب کے سرورق پر ان کے نام کے ساتھ’’ ؒ ‘‘ لکھا ہوا تھا۔میں اس بات سے بہت متاثر ہوئی اور مجھے خیال آیا کہ مصنفین کے ناموں کے آگے ’’ ؒ ‘‘ نہیں لگا کرتا بلکہ یہ تو کسی بہت بڑی ہستی کے نام کے ساتھ لگایا جاتا ہے اور مصنف اسے خود نہیں لکھتا بلکہ پسِ مرگ دوسرے لوگ اس کو اس اعزاز سے سرفراز کرتے ہیں، اور یہ لاحقہ اس شخص کے نام کے ساتھ لگایا جاتا ہے جس نے اپنی پوری زندگی اللہ کے احکام کی تعمیل میں گزاردی ہو۔ دراصل یہ اعزاز، اللہ کا پیارا بندہ ہونے کی بنا پر حاصل ہوتا ہے۔

جناب افضل حسینؒ کی تصنیف کردہ کتاب ’’سچا دین‘‘ جو کہ ہمارے اسکول کے نصاب میں شامل تھی، کی عبارتیں نہایت سادہ اور سلیس تھیں اور بچے اسے آسانی سے پڑھتے اور سمجھتے بھی تھے، اور جب ان سے سبق کے اختتام پر اُسلوب کے متعلق سوال کیے جاتے تھے تو وہ آسانی سے جواب بھی دے دیتے تھے۔ جس وقت میں اینگلو عربک اسکول میں ٹیچنگ جاب کررہی تھی، اس وقت اساتذہ کے ساتھ پرنسپل صاحب کی مہینے میں ایک بار میٹنگ ہوا کرتی تھی جس میں اکثر و بیشتر افضل حسین صاحب کے حوالے سے بحیثیت ایک معلم وہ بتایا کرتے تھے کہ ایک استاد اور شاگرد کے درمیان کیسا رشتہ ہونا چاہیے۔ اس چیز کو افضل حسین صاحب نے بڑے اچھے طریقے سے بیان کیا ہے۔ انھوں نے جماعت اسلامی کی قائم کردہ درسگاہ اسلامی رام پور میں جبکہ وہ اس کے ناظم/پرنسپل تھے استاد کو ’’سر‘‘ کہنے کے بجائے ’’چچا میاں‘‘ کہنے کا طریقہ رائج کیا۔ چنانچہ وہاں آج بھی طلبہ بڑے ادب اور اپنائیت سے اساتذہ کو ’’چا میاں‘‘ کہہ کر ہی پکارتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں اساتذہ اور طلبہ کے درمیان قریبی رشتہ استوار ہوا اور بچے پڑھائی سے متعلق اپنی مشکلات کو بہ آسانی اپنے اساتذہ کے سامنے رکھ سکتے تھے۔ افضل صاحب نے اساتذہ اور طلبہ کے باہمی تعلق کی جس خوبصورت انداز میں تشریح کی ہے، اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مرحوم ، طلبہ کو کسی بھی قسم کے خوف و ہراس کا شکار ہوتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے تھے بلکہ اس کے برعکس ان کی خواہش تھی کہ بچے خوشگوار اور اپنائیت بھرے ماحول میں تعلیم حاصل کریں جس میں طلبہ اور اساتذہ کے درمیان ذہنی ہم آہنگی ہو، اور بچوں کی ذہنی، جسمانی، عملی اور اخلاقی نشو و نما بہتر انداز میں ہوسکے۔

مجھے نہیں معلوم تھا کہ جس شخصیت سے میں اتنی متاثر ہوئی تھی، مجھے اس کے خاندان کا ایک اہم فرد بننے کا شرف حاصل ہوگا۔ اللہ کا حکم کچھ ایسا ہوا کہ اسکول کے پرنسپل صاحب نے افضل صاحب مرحوم کے بیٹے جناب قمر افضل کی شادی کا پیغام میرے لیے میرے گھر بھیجا بلکہ موصوف خود ہی میرے گھر تشریف لائے اور اس سلسلہ میں میری والدہ سے بات کی کیونکہ میرے والد حیات نہیں تھے اور پھر ہم بفضل الٰہی رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوگئے۔ الحمدللہ ، افضل حسین مرحوم کی فیملی میں مجھے ایک باعزت اور باوقار مقام ملا۔

قمر افضل صاحب یعنی میرے شوہر نے اپنے والد صاحب کے بارے میں بہت سی باتیں بتائیں اور اب بھی اکثر و بیشتر ابا مرحوم کا ذکرِ خیر ہماری زیادہ تر گفتگوؤں میں شامل رہتا ہے۔ میں آج تک اپنے جس کسی سسرالی رشتہ دار سے ملی، تو کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اس سے ملاقات کے دوران ابا مرحوم کا ذکرِ خیر نہ ہوا ہو۔ ان کی نجی زندگی کے بارے میں ان کے رشتہ داروں سے جو معلومات حاصل ہوئیں، اس میں زیادہ تر لوگوں نے یہ بتایا کہ وہ اپنے ذاتی کام خود کرلیا کرتے تھے۔مثلاً وہ اپنے کپڑے خود دھویا کرتے تھے اور اپنی ذاتی استعمال کی چیزوں کی دیکھ بھال خود ہی کیا کرتے تھے۔ علی الصبح اٹھنے سے لے کر رات سونے تک ان کے ہر ایک کام کا وقت مقرر تھا۔ غرضیکہ اپنی زندگی کے تمام معمولات پر وہ منظم طریقے سے کاربند تھے اور اپنے بچوں کو بھی انھوں نے یہی تربیت دی جس کا اثر ہے کہ ان کے بچے بھی منظم طریقے پر اپنے معمولاتِ زندگی کو پورا کرتے ہیں۔

ایک روز میرے شوہر جناب قمر صاحب نے مجھے اپنا ایک ذاتی واقعہ سنایا جو انھیں بچپن میں پیش آیا تھا۔ میں نے اس واقعہ کو افضل حسین مرحوم کی تصنیف کردہ ’’فن تعلیم و تربیت‘‘ کے پیرائے میں دیکھا تو معلوم ہوا کہ انھوں نے جو یہ کتاب لکھی ہے، اسے صرف الفاظ کا جامہ ہی نہیں پہنایا ہے، بلکہ اسے عملاً بِرت کرکے بتایا اور دکھایا بھی ہے۔ ہوا یہ تھا کہ جب ابا مرحوم رام پور سے دہلی آگئے اور مرکز جماعت اسلامی میں خدمات انجام دینے لگے، اس وقت ان کی فیملی رام پور ہی میں تھی اور اسی دوران اُن کے چھوٹے صاحبزادے قمر افضل درجہ پنجم پاس کرنے میں ناکام ہوگئے تو افصل صاحب نے انھیں دہلی اپنے پاس بلالیا اور بجائے اس کے کہ ان کو ڈانٹتے اور بُرا بھلا کہتے، انھیں گھر ہی پر ایک سال تک پڑھاتے رہے اور اپنی تمام تر مصروفیات اور مشغولیات کے باوجود دو۲ گھنٹے صبح اور دو۲ گھنٹے شام اپنے پاس بٹھا کر بنیادی تیاری کراتے رہے اور بیچ میں انھیں ایک گھنٹہ کھیلنے کا وقت بھی دیتے تھے۔ اس طرح بچپن سے ہی ان کے اندر ایک منظم اور منضبط زندگی گزارنے کی عادت ڈال دی اور پھر اگلے سال انھیں اینگلو عربک اسکول، اجمیری گیٹ بھیجا جہاں انھوں نے درجہ ششم (۶) میں داخلہ کے لیے ٹیسٹ دیا، اور بجائے ششم میں داخلہ ملنے کے انھیں درجہ ہفتم میں داخلہ ملا اور سال کے آخر میں امتحان دیا تو پوری کلاس ٹاپ کیا، اور پھر تو وہ ہمیشہ ٹاپر  ہی رہے۔ اس طرح مرحوم افصل صاحب نے اپنی محنت ، قابلیت ،توجہ اور تجربہ سے قمر افضل صاحب کے دو تعلیمی سال بچالیے اور انھیں صفِ اوّل کا طالب علم بنادیا۔

مرحوم نے اپنی کتاب ’’فن تعلیم و تربیت‘‘ میں ’’ناکامی کے اسباب‘‘ کے زیرِ عنوان لکھا ہے:

’’تعلیم و تربیت بہت ہی صبر آزما اور پِتّہ ماری کا کام ہے۔ یہ کام جتنی توجہ، دل سوزی اور جدوجہد چاہتا ہے اس کے لیے عملاً کم ہی لوگ آمادہ ہوتے ہیں۔‘‘

عموماً دیکھا گیا ہے کہ لوگ بچے کی ناکامی سے بد دل ہوکر نہ صرف اپنی کوششوں میں کمی کردیتے ہیں بلکہ اپنے رویے اور برتاؤ سے بچوں کو مایوسی کا شکار بنادیتے ہیں۔ اگر ابّا مرحوم نے بروقت اپنے بچے کی تعلیم و تربیت پر توجہ مرکوز نہ کی ہوتی اور اس کی کارکردگی پر منفی رویہ اختیار کیا ہوتا تو ان کے یہ بیٹے آج ایک کامیاب انسان نہ ہوتے۔

میرے شوہر قمر صاحب اکثر بتاتے ہیں کہ جب میں چھوٹا تھا تو دس سال کی عمر تک ابا مجھے رات کو اپنے پاس کہانی کے انداز میں دینی باتیں اور حکایتیں سنایا کرتے تھے۔ بڑے ہوکر جب میں نے قرآن پاک ترجمہ کے ساتھ پڑھا تو معلوم ہوا کہ یہی تمام باتیں بچپن میں ابا مجھے بتایا کرتے تھے۔ اس طرح سے ابّا مرحوم نے اپنے بچوں کی ذہنی، اخلاقی اور روحانی اقدار کی تربیت کا کام ہلکے پھلکے انداز میں پورا کردیا اور اس کا اثر ان کے تمام بچوں کی عادات و اطوار اور سیرت و اخلاق میں نمایاں طور سے نظر آتا ہے۔

بچوں کی تعلیم و تربیت پر اگر بروقت مناسب توجہ دی جائے تو ان کی صلاحیتیں ابھرتی اور پروان چڑھتی ہیں، سیرتیں بنتی ہیں اور دین و دنیا میں انھیں فلاح وکامیابی نصیب ہوتی ہے اور وہ اپنے اُس مقصد کی تکمیل کرتے ہیں جس کے لیے اللہ نے انھیں دنیا میں بھیجا ہے۔

یہ ابّا مرحوم کی تعلیم و تربیت اور ان کی پُرسوز دعاؤں ہی کا اثر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ا ن کے صاحبزادے قمر افضل صاحب کے دل میں درد مندانہ خیالات پیدا کیے۔ ان کا کہنا ہے کہ اللہ نے جن نعمتوں سے ہمیں نوازا ہے اس کا حساب بھی اسے دینا ہے کہ ان کا کیا استعمال کیا۔ ہماری بھلائی اسی میں ہے کہ ہم اللہ کی بخشی ہوئی قوتوں ، صلاحیتوں اور سازو سامان کو اس کی مرضی کے مطابق صرف کریں اور اس کے شکر گزار بندے بن کر رہیں، اور ساتھ ساتھ اپنے اعزہ و اقارب ، دوستوں ، پڑوسیوں اور ضرورت مندوں کے حقوق کی ادائیگی کرتے رہیں۔ ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قمر افضل صاحب نے اپنے والد ماجد جناب افضل حسین ؒ کے آبائی وطن ضلع بستی (اوراب سنت کبیر نگر)میں ’’افضل سینٹر‘‘ قائم کیا جس میں ایک مسجد اور ایک مدرسہ قائم ہے اور اس میں لڑکیوں کی دینی تعلیم، اردو، ریاضی وغیرہ کی بنیادی تعلیم کا انتظام کیا ہے۔ اسی کے ساتھ بچیوں کو امور خانہ داری کی تعلیم اور سلائی کڑھائی اور بُنائی جیسے کار آمد ہنر سکھانے کا بھی خاطر خواہ انتظام کیا ہے۔

یہ ابّا جان مرحوم کی مذہبیت اور گھر کے پاکیزہ ماحول ہی کا نتیجہ ہے کہ قمر افضل صاحب کو یہ تمام کام انجام دینے کی اللہ تعالیٰ نے توفیق اور صلاحیت بخشی اور ہدایت عطا کی۔ ابّا جان مرحوم کی کتاب ’’فن تعلیم و تربیت‘‘ پڑھنے کے بعد میں سوچتی ہوں کہ پورے ایک سال کا ٹیچرس ٹریننگ کورس کرنے کے بعد بھی میری تعلیم ادھوری تھی جو اَب اس کتاب کے مطالعہ کے بعد مکمل ہوئی ہے۔ میں سوچتی ہو کہ اس کتاب کو بی. ایڈ. کے نصاب میں شامل ہونا چاہیے تاکہ اسے پڑھ کر ایک ٹیچر میں وہ اوصاف پیدا ہوسکیں جو اس پیشے کے متقاضی ہیں اور اس سے استفادہ کرتے ہوئے اساتذہ اپنی قوم کے بچوں کی نشو و نما میں ایک مثبت اور نمایاں کردار ادا کرسکیں۔

 

read more on page 331

افضل حسین ؒ قائدینِ تحریکِ اسلامی کے احساسات

  • افضل حسینؒ ۔ایثار وقربانی کاپیکر

    انعام الرحمن خاں، بھوپال

    (سابق امیر حلقہ مدھیہ پردیش)

    اس کی امیدیں قلیل،اس کے مقاصد جلیل ۱۹۴۵ء میں مولانا سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ فرمایا تھا: ’’۔۔۔ ہم دراصل ایک ایسا گروہ تیار کرنا چاہتے ہیں جو ایک …

    مزید

  • وہ فنا فی الجماعت ہوگئے تھے

    محمد حسنین سید

    درس گاہ اسلامی، دربھنگہ، بہار

    مولانا افضل حسین صاحب رحمۃ اللہ علیہ سراپا اخلاص اور فنا فی الجماعت تھے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور فردوس میں جگہ دے۔ آمین!

    ان سے میری پہلی ملاقات ۱۹۴۵ء میں پٹنہ میں ہوئی …

    مزید

  • وہ ماں کی طرح مہربان و شفیق تھے

    جناب اعجاز اسلم صاحب

    سکریٹری جماعتِ اسلامی ہند

    میں مولانا سے سب سے پہلے کی ان کی تیار کردہ درسی کتابوں کے ذریعہ متعارف ہوا۔پھر ۱۹۷۷ء میں ریاست تمل ناڈو کی امارت سنبھالنے کے بعد بار بار مرکز آنے کا موقع ملا۔ اس طرح مختلف …

    مزید

  • افضل حسینؒ نے جماعت کی تاریخ بنائی

    سیّد جلال الدین عمری

    سابق مدیر ماہنامہ زندگی نو،نئی دہلی

    ابھی۲۲؍نومبر ۱۹۸۹ء کو مولانا سلمان ندوی مدیر سہ روزہ دعوت اور عربی جریدہ الدعوۃ، (نئی دہلی) کے انتقال کا صدمہ ہم سب لوگوں کو برداشت کرنا پڑا کہ صرف پانچ ہفتے بعد …

    مزید