Latest Updates
TO BUY “ ANY BOOKS” PLEASE CONTACT PUBLISHER

Home/ حیاتِ افضل

:آغازِ حیات

نام و نسب : افضل حسینؒ ولد منصب دار خاں ولد فتح محمد خاں۔

پیدائش : ۲؍جنوری ۱۹۱۸ء بمقام جانْتے ڈِیہا، تھانہ دُودھارا، تَپّہ اُجیار، ضلع بستی، یوپی ۔

یتیمی کا صدمہ: چھ سال کی عمر میں والد کے سایہ شفقت سے محروم ہوگئے لیکن ان کے بڑے بھائی غلام حسین صاحب نے ان کی پرورش اور تعلیم و تربیت کا عمدہ نظم کیا اور سرپرستی کی ذمہ داری بحسن و خوبی ادا کی۔

:تعلیم

ابتدائی تعلیم : پرائمری اسکول موضع دُودھارا، ضلع بستی۔
مڈل اور ہائی اسکول: خیر انٹر کالج بستی، ضلع بستی، یو پی میں مڈل اور پھر ۱۹۳۵ء میں ہائی اسکول پاس کیا۔

انٹر میڈیٹ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسکول سے ۱۹۳۷ء  میں۔

گریجویشن: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ۱۹۳۹ء  میں امتیازی پوزیشن کے ساتھ بی.اے. آنرز انگلش پاس کیا اور طلائی تمغہ سے سرفراز ہوئے۔

ایل.ٹی: الٰہ آباد یونیورسٹی سے ۱۹۴۰ء  میں  یعنی پروفیشنل ٹیچرس ٹریننگ کورس جو آج کل بی .ایڈ. کے مساوی ہے۔

ایم.اے: ایم . اے. کی تعلیم تو علی گڑھ یونیورسٹی ہی میں ہوئی لیکن اس وقت ایم. اے. کی ڈگری کے لیے اے.ایم. یو. آگرہ یونیوسٹی سے ملحق تھا۔ اس لیے ۱۹۴۴ء  میں ایم . اے. کی ڈگری آگرہ یونیورسٹی سے ملی۔

شادی

بعمر ۱۸ سال ۱۹۳۵ میں ، نجم النساء بی بی سے سسرالی گاؤں دُودھارا میں نکاح ہوا (جن کی تاریخ پیدائش ۱۴؍نومبر ۱۹۱۸ء  ہے۔

 فیملی

مرحوم افضل حسین صاحب ۳ بھائی تھے: (۱) غلام حسین (۲) علی حسین (۳) افضل حسین، اور تین بہنیں تھیں: (۱) کثیر النساء (۲) نجم النساء (۳) زینب النساء۔

اولاد

لڑکوں اور لڑکیوں کا یہی صنفی تناسب ان کی اولاد میں بھی جاری رہا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انھیں چار لڑکوں اور چار لڑکیوں سے نوازا جن کے نام درج ذیل ہیں

 عمر افضل (جن کا اصل نام نجم الحسن ہے 

 دو جڑواں بچے پیدا ہوئے جن میں سے ایک کا پیدائش کے معاً بعد انتقال ہوگیا۔ اور دوسرے بچے نسیم کا ایک ماہ کے اندر اندر انتقال ہوگیا۔ یہ ۱۹۵۱ء  کی بات ہے۔

 فخر الحسن: رام پور میں ۱۹۵۳ء  میں ولادت ہوئی اور انتقال بھی ہوگیا۔

 قمر الہدیٰ عرف قمر افضل طلعت عرف مُنُّو۔

لڑکیاں

 بلقیس فاطمہ: پیدائش ۱۹؍جنوری ۱۹۴۲ء ، بسواں ضلع سیتا پور میں محترم ڈاکٹر توکل حسین صاحب سے منسوب ہیں۔ موصوف تبلیغی جماعت کے علاقائی رہنما ہیں۔

 برجیس فاطمہ: پیدائش : ۸؍اپریل ۱۹۴۶ء ۔ مولانا محمد یوسف صاحب سابق امیر جماعت اسلامی ہند کے صاحبزادے محمد سلیمان بھائی سے منسوب ہیں۔

 وسیم فاطمہ: پیدائش ستمبر ۱۹۴۷ء  ۔ مخدوم شاہ صاحب (رام پور) سے منسوب ہیں۔ مولانا سیداحمدعروج قادری کی ادارت میں شائع ہونے والے ماہنامہ زندگی کے منیجر تھے۔

 شمیم فاطمہ: پیدائش ۳۱؍جولائی ۱۹۴۹ء ۔ شوکت صاحب، لکھیم پور، یو.پی. سے منسوب ہیں۔

ملازمت

۔ گورنمنٹ نارمل اسکول (ٹیچرس ٹریننگ اسکول) فیض آباد میں ملازمت ۱۹۳۷ء تا ۱۹۴۴ء ۔

۔ گورنمنٹ نارمل اسکول جھانسی (یو.پی.) میں بطور وائس پرنسپل تقرر ۱۹۴۴ء تا ۱۹۴۷ء ۔

۔ نارمل اسکول بستی (ضلع بستی) میں بطور وائس پرنسپل ٹرانسفر ۱۹۴۷ء  تا ۱۹۴۷ء ۔ (بڑے بھائی غلام حسین صاحب کا ذہنی توازن خراب ہوجانے کے بعد ان کی نگہداشت اور ان کے بچوں کی دیکھ بھال کے لیے اپنے گاؤں سے قریب یہ تبادلہ انھوں نے از خود کرایا تھا۔

سرکاری ملازمت سے استعفیٰ

مرکزی درسگاہ اسلامی رام پور کی نظامت کے لیے سرکاری ملازمت سے استعفیٰ ۱۹۴۸ء۔ اس وقت افضل حسین صاحب کی عمر ۲۸ سال تھی، اپنے استعفیٰ میں انھوں نے یہ وجہ لکھی کہ تعلیم کا موجودہ طریقہ جسے میں پڑھا رہا ہوں، اسلامی نظریہ سے ٹھیک نہیں ہے۔

تحریکِ اسلامی ہند سے وابستگی

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے زمانۂ قیامِ طالب علمی کے دوران

۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے رسالہ ماہنامہ ترجمان القرآن کے ذریعہ تحریک اسلامی کی فکر سے متاثر ہوئے۔

۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی سے ملاقات ۱۹۳۶ء بتقریب خطبہ تقسیمِ اسناد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی۔

۔ مشرقی یو.پی. اور بہار کے اجتماعِ ارکانِ جماعت اسلامی ہند منعقدہ دربھنگہ ۲۱۔۲۲ ؍اکتوبر ۱۹۴۳ء میں شرکت ، جس میں مولانا مودودی علیہ الرحمہ بھی شریک ہوئے تھے ۔

جماعت اسلامی کی رکنیت ۱۹۴۴ء بمقام جھانسی ، دورانِ ملازمت۔

 

۔ تقسیم ہند سے پہلے بہار کے ہولناک فرقہ وارانہ فساد کے بعد پٹنہ میں مرکز جماعت اسلامی دارالاسلام پٹھان کوٹ (پنجاب) کی طرف سے قائم ریلیف کیمپ میں شرکت: ۱۹۴۵ء ۔

 

۔ مولانا مودودیؒ کی دعوت پراسلامی نظریاتی درسگاہ قائم کرنے کے مقصد سے دارالاسلام پٹھان کوٹ کا سفر: ۱۹۴۶ء۔

۔ کل ہند اجتماعِ ارکان منعقدہ الٰہ آباد اپریل ۱۹۴۸ء میں بطور نمائندہ علاقہ جھانسی شرکت۔ اور اس موقع پر بطورِ خاص انھیں امیر جماعت اسلامی ہند کے انتخاب میں حصہ لینے کا مجاز قرار دیا گیا۔

اس موقع پر ابومحمدامام الدین رام نگری کے جماعت سے مستعفی ہونے کے بعد اسی اجتماع میں افضل حسین صاحب کو جماعت کا لٹریچر ہندی میں منتقل کرنے کی ذمہ داری تفویض کی گئی۔

مرکزی درسگاہ اسلامی سے وابستگی

۔ دسمبر ۱۹۴۸ء میں مرکز جماعت اسلامی ہند ملیح آباد میں آمد۔

۔ تقرری بحیثیت ناظمِ درسگاہ اسلامی ملیح آباد ۔ یکم جنوری ۱۹۴۹ء۔

۔ مرکزی درسگاہ اسلامی ملیح آباد اور مرکز جماعت کی رام پور منتقلی: ستمبر ۱۹۴۹ء۔

۔ کل عرصۂ نظامت مرکزی درسگاہ اسلامی : تقریباً ۱۵ ؍سال۔

۔ شعبہ تعلیم سے مسلسل وابستگی کا عرصہ: تقریباً ۲۵؍سال۔

۔ مرکز جماعت اسلامی ہند دہلی سے وابستگی: ۱۹۶۵ء تا ۱۹۹۰ء۔

۔ معاون قیمِ جماعت (سکریٹری جماعت اسلامی ہند) کی حیثیت سے مرکز جماعت اسلامی دہلی میں منتقلی: ۱۹۶۴ تا ۱۹۷۰ء۔

۔ درسیات پر نظر ثانی کرنے کے لیے مرکز جماعت سے عرصۂ فراغت: جولائی ۱۹۷۰ء تا ۱۹۷۳ء ۔

[اس دو سال کے عرصہ میں انھوں نے اپنی مشہور کتاب ’’فن تعلیم و تربیت‘ ‘کی تکمیل کی۔]

۔ قیم جماعت اسلامی ہند جنرل سکریٹری کی حیثیت سے مرکز جماعت اسلامی ہند میں

خدمات :۱۹۷۲ء تا ۱۹۸۹ء۔

۔ مرکز جماعت میں خدمات کا مجموعی عرصہ: ۲۵ سال۔

بیرونی اسفار

۔ پہلا سفر: سفر حج: دسمبر ۱۹۷۴ء۔

۔ دوسرا سفر: امریکہ، اپریل ۱۹۷۸ء۔

۔ تیسرا سفر امریکہ: ۱۹۸۴ء۔ [رمضان کا مہینہ وہیں گزارا اورکمزور صحت کے باوجود ۱ ۲ ۱۷ گھنٹے کے روزے رکھے ۔]

علالت اور سفر آخرت

۔ ہرنیا کے آپریشن کے لیے ولنگڈن ہاسپٹل ، نئی دہلی میں داخلہ ستمبر ۱۹۸۹ء۔

۔ ہرنیا کا کامیاب آپریشن ہوا اور ہشاش بشاش گھر واپس ہوئے۔

۔ اس کے ۱۵دن بعد انھیں یرقان ہوگیا جس کے زیرِ اثر ان کا پِتّہ خراب ہوگیا۔ اس سے قبل غالباً ۱۹۶۰ء میں قیام رام پور کے زمانے میں انھیں ایک بار یرقان ہوگیا تھا اور قریب ایک ماہ تک صاحبِ فراش رہے۔

۔ پِتہ کے آپریشن کے لیے جے پرکاش نراین (اِروِن) ہاسپٹل نئی دہلی میں داخلہ (نومبر۔دسمبر ۱۹۸۹ء)۔

۔ ۲۶؍دسمبر ۱۹۸۹ء کو ان کی رہائش گاہ واقع کیمپس مرکز جماعت بازار چتلی قبر واپسی۔ ۔ انتقال: یکم جنوری ۱۹۹۰ء مطابق ۳؍جمادی الثانیہ ۱۴۱۰ھ بروز پیر، صبح ۳۰۔۱۰ بجے ان کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کرگئی اور وہ سفرِ آخرت پر روانہ ہوگئے۔إنّا لِلّٰہ وَإنّا إلیْہِ رَاجِعُوْن۔ (بے شک ہم سب اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہم سب کو اسی کی طرف واپس جانا ہے۔)

۔

نمازِ جنازہ: یکم جنوری ۱۹۹۰ء  بعد نماز عصر در شاہجہانی جامع مسجد دہلی۔

۔ تدفین: قبرستان مہندیان (متصل درگاہ شاہ ولی اللہ دہلوی) خواجہ میر درد روڈ ، نئی دہلی۔

یَا أَیَّتُہَا النَّفْسُ الْمُطْمَءِنَّۃُo ارْجِعِیْ إِلَی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً o فَادْخُلِیْ فِیْ عِبَادِیْo وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ o

’’اے نفس مطمئن!

چل اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ تو (اپنے انجامِ نیک سے) خوش (اور اپنے رب کے نزدیک) پسندیدہ ہے۔ شامل ہوجا میرے (نیک) بندوں میں۔ اور داخل ہوجا میری جنت میں۔‘‘ ؂؂

حاصلِ عمر نثارِ رہِ یارے کردم

شادم از زندگئ خویش کہ کارے کردم

افضل حسین ؒ قائدینِ تحریکِ اسلامی کے احساسات

  • افضل حسینؒ ۔ایثار وقربانی کاپیکر

    انعام الرحمن خاں، بھوپال

    (سابق امیر حلقہ مدھیہ پردیش)

    اس کی امیدیں قلیل،اس کے مقاصد جلیل ۱۹۴۵ء میں مولانا سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ فرمایا تھا: ’’۔۔۔ ہم دراصل ایک ایسا گروہ تیار کرنا چاہتے ہیں جو ایک …

    مزید

  • وہ فنا فی الجماعت ہوگئے تھے

    محمد حسنین سید

    درس گاہ اسلامی، دربھنگہ، بہار

    مولانا افضل حسین صاحب رحمۃ اللہ علیہ سراپا اخلاص اور فنا فی الجماعت تھے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور فردوس میں جگہ دے۔ آمین!

    ان سے میری پہلی ملاقات ۱۹۴۵ء میں پٹنہ میں ہوئی …

    مزید

  • وہ ماں کی طرح مہربان و شفیق تھے

    جناب اعجاز اسلم صاحب

    سکریٹری جماعتِ اسلامی ہند

    میں مولانا سے سب سے پہلے کی ان کی تیار کردہ درسی کتابوں کے ذریعہ متعارف ہوا۔پھر ۱۹۷۷ء میں ریاست تمل ناڈو کی امارت سنبھالنے کے بعد بار بار مرکز آنے کا موقع ملا۔ اس طرح مختلف …

    مزید

  • افضل حسینؒ نے جماعت کی تاریخ بنائی

    سیّد جلال الدین عمری

    سابق مدیر ماہنامہ زندگی نو،نئی دہلی

    ابھی۲۲؍نومبر ۱۹۸۹ء کو مولانا سلمان ندوی مدیر سہ روزہ دعوت اور عربی جریدہ الدعوۃ، (نئی دہلی) کے انتقال کا صدمہ ہم سب لوگوں کو برداشت کرنا پڑا کہ صرف پانچ ہفتے بعد …

    مزید