Latest Updates
TO BUY “ ANY BOOKS” PLEASE CONTACT PUBLISHER

Home/ خطوط

بھٹنڈہ جیل سے افضل حسین ؒ کی خط و کتابت

داستانِ عزیمت

جو ارکانِ جماعت اسلامی جیل سے باہر تھے ان کی تعداد سارے ہندستان میں اتنی کم تھی کہ انگلیوں پر گنی جاسکتی تھی۔ ان سے اپنے پرائے سب نے آنکھیں پھیرلی تھیں۔ ان کے کاروبار چوپٹ کردیے گئے تھے۔ ان کی تعلیم گاہوں کو بند کردیا گیا تھا۔ یہ سب اِکّا دکّا ایک دوسرے سے بہت دور خط و کتابت بھی کرتے تو صرف خیرو عافیت کی حد تک۔ ہماری ڈاک پر سنسر کی کڑی نظررہتی تھی۔ میرے پاس افضل حسینؒ صاحب قیم جماعت اسلامی ہند کے ایسے متعدد خطوط ہیں جو اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ان کے بیچ یا آخر یا شروع کی عبارت پھاڑلی گئی ہے۱؂۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ قیم صاحب بھٹنڈہ جیل میں ہیں تو میں نے ان کی خدمت میں ماہنامہ حجاب کے بہت سے شمارے اور کتابیں بھیج دیں۔ بھٹنڈہ جیل کا جیلر قیم صاحب سے بہت متاثر تھا۔ قیدیوں کے بارے میں اکثر ان سے مشورے لیتا تھا۔ اردو بہت اچھی جانتا تھا۔ قیم صاحب نے اس کو وہ تمام کتابیں پڑھوا ڈالیں، جو قیم صاحب کو موصول ہوتی تھیں۔ میرے خطوط، ماہنامہ حجاب اور کتابیں پہلے[وہ خود] پڑھتا، تب انھیں دیتا۔ اس کے بعد اسے اعتماد ہوگیا تو جگہ جگہ یہاں وہاں نظر ڈال کر قیم صاحب کو دے دیتا تھا۔ اس وقت میرے اور قیم صاحب کے درمیان بڑی دلچسپ اور معنیٰ خیز خط و کتابت ہوتی تھی۔ ان میں سے میں اپنے ایک خط اور اس خط کا جواب، جو قیم صاحب نے دیا تھا۔ یہاں بطور نمونہ پیش کررہا ہوں۔ یہ خط و کتابت میں نے ماہنامہ حجاب کے ’’نظر بند نمبر(۲)‘‘ میں چھاپ دی تھی۔ اُسی سے فوٹو اسٹیٹ کراکے من و عن اشاعت کے لیے دے رہا ہوں۔ خطوط کے عنوان میں نے خود قائم کیے ہیں۔

اس خط و کتابت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کا پس منظر پیش کردیا جائے۔ اس وقت مقامی جماعت اسلامی رام پور میں ۳۵ ممبر (ارکان) تھے۔ ان میں گیارہ مرکزی درسگاہ جماعت اسلامی رام پور کے ٹیچر تھے اور اکیس ارکانِ جماعت، رامپور کے تھے۔ چار ارکان جیل میں تھے۔ درسگاہ جماعت اسلامی رام پور پر ڈی. ایم. نے قبضہ کرکے ایک کمیٹی کے سپرد کردیا تھا۔ کمیٹی نے ڈی. ایم. کے اشارے پر گیارہ ارکان ٹیچرس کو نکال دیا اور کہا کہ جماعت اسلامی سے الگ ہوجائیں تو مدرس رہ سکتے ہیں ورنہ نہیں۔ ان مدرسین نے اللہ کے فضل سے بڑے عزم کا ثبوت دیا۔ بھوکے رہنا گوارہ کرلیا لیکن جماعت اسلامی کا دم بھرتے رہے ۔ بے چاروں نے معمولی معمولی ٹیوشن کرکے پونے دو برس اس طرح گزارے کہ جماعت کے دشمن بھی افسوس کرنے لگے تھے۔ اس پس منظر کے بعد اب وہ میرا خط اور افضل صاحب کا جواب پڑھیے۔

مائل خیرآبادی

محترم قیم جماعت اسلامی ہند جناب افضل حسین ؒ سے

مائل خیرآبادی کی خط و کتابت

حجاب۔ رامپور

۳؍نومبر ۱۹۷۶ء

برادر محترم۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہٗ عزیزِ گرامی مخدوم۱؂ صاحب سلمہٗ سے آپ کا حال معلوم ہوا۔ انھی کے ذریعہ آپ نے ہمارا حال پوچھا ہے۔ بھائی صاحب ! حال کیا عرض کروں آپ سے، حال اچھا ہے

میں نے اب تک حقیقتِ حال سے آپ کو اس لیے آگاہ نہیں کیا کہ کیوں بھٹنڈہ جیل میں آپ کو مزید غم میں مبتلا کروں، لیکن جب پوچھتے ہیں تو سنیے:

آپ کو معلوم ہے کہ ہمارے گھر کا باغ کتنی وسیع زمین میں ہے۔ اس باغ کی شادابی اور سرسبزی میں آپ نے بھی بڑی توجہ فرمائی تھی۔ آپ نے کیسے کیسے پودے لگانے کے لیے کہا تھا اور اپنی نگرانی میں لگوائے بھی تھے تو پھر آپ کو اس کا حال پوچھنا ہی چاہیے۔ آپ نے حال پوچھا تو مہربانی کی۔ میرے باغ کے وہ جو دو بڑے درخت تھے اور خوب پھل دیتے تھے موسم کی تاب نہ لاکر حادثے کا شکار ہوگئے۔ جولائی ۱۹۷۵ء کے پہلے ہفتے میں جو طوفانی بارش ہوئی تھی تو ان کی جڑوں میں پانی بھر گیا۔ پانی کی زیادتی کو[وہ] برداشت نہ کرسکے اور اب معلوم ہوا کہ وہ کتنے پانی میں تھے۔ واحسرتا! دونوں پیڑ سڑ گئے۔ باقی رہے گیارہ انار کے درخت ۔ یہ انار کے درخت انھی پودوں کے ہیں جو آپ نے نہ جانے کہاں کہاں سے لاکر لگائے تھے۔ اب جو پھل دینے لگے تو کچھ لوگوں نے انھیں اکھاڑ پھینکا اور میں ایسا مجبور جیسا کسی شاعر نے کہا ہے کہ: ؂

ظلم ہم صیاد کا باچشم تر دیکھا کیے

کیا کہیں دیکھا نہ جاتا تھا مگر دیکھا کیے

 

یہ آپ کے پروان چڑھائے ہوئے تھے۔ جتنا دکھ آپ کو ہوسکتا ہے دوسرے کو نہیں۔ امرودوں کے اکیس درخت تھے۔ ان سب کی جڑوں میں جالالگ گیا۔ لوگ مشورہ دیتے ہیں کہ ان کی جڑیں صاف کرکے اگر پنڈول بھر دیا جائے تو یہ پھر تروتازہ ہوسکتے ہیں۔ مگر جڑوں کو صاف کرنا اور پنڈول ڈالنا، ہے بڑا مشکل کام۔ اب وہ مجھے دیکھتے ہیں اور میں انھیں دیکھتا ہوں، بے حد تکلیف ہوتی ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کیا کروں؟ میری عمر ۶۷ سال کی ہے۔ رات کو منصوبہ بناتا ہوں کہ دوسرے دن کچھ کام کروں گا۔ دن کو ہاتھ پیر نہیں چلتے۔ میں اس سارے باغ کی تباہی دیکھ دیکھ کر مایوس سا ہوتا جارہا ہوں۔ جب آپ تھے تو کیسا لطف آتا تھا۔ میں نے ایک غزل کہی ہے، اس کا مطلع پڑھ پڑھ کر روتا رہتا ہوں۔ آپ بھی رو لیجیے: ؂

پینے کا سلیقہ تھا کیا طور طریقہ تھا

یاد آج بھی کرتا ہے مائلؔ تجھے میخانہ

زیادہ کیا عرض کروں۔ دعا کی درخواست ہے۔

والسلام

مائل خیرآبادی

read more on page 313

افضل حسین ؒ قائدینِ تحریکِ اسلامی کے احساسات

  • افضل حسینؒ ۔ایثار وقربانی کاپیکر

    انعام الرحمن خاں، بھوپال

    (سابق امیر حلقہ مدھیہ پردیش)

    اس کی امیدیں قلیل،اس کے مقاصد جلیل ۱۹۴۵ء میں مولانا سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ فرمایا تھا: ’’۔۔۔ ہم دراصل ایک ایسا گروہ تیار کرنا چاہتے ہیں جو ایک …

    مزید

  • وہ فنا فی الجماعت ہوگئے تھے

    محمد حسنین سید

    درس گاہ اسلامی، دربھنگہ، بہار

    مولانا افضل حسین صاحب رحمۃ اللہ علیہ سراپا اخلاص اور فنا فی الجماعت تھے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور فردوس میں جگہ دے۔ آمین!

    ان سے میری پہلی ملاقات ۱۹۴۵ء میں پٹنہ میں ہوئی …

    مزید

  • وہ ماں کی طرح مہربان و شفیق تھے

    جناب اعجاز اسلم صاحب

    سکریٹری جماعتِ اسلامی ہند

    میں مولانا سے سب سے پہلے کی ان کی تیار کردہ درسی کتابوں کے ذریعہ متعارف ہوا۔پھر ۱۹۷۷ء میں ریاست تمل ناڈو کی امارت سنبھالنے کے بعد بار بار مرکز آنے کا موقع ملا۔ اس طرح مختلف …

    مزید

  • افضل حسینؒ نے جماعت کی تاریخ بنائی

    سیّد جلال الدین عمری

    سابق مدیر ماہنامہ زندگی نو،نئی دہلی

    ابھی۲۲؍نومبر ۱۹۸۹ء کو مولانا سلمان ندوی مدیر سہ روزہ دعوت اور عربی جریدہ الدعوۃ، (نئی دہلی) کے انتقال کا صدمہ ہم سب لوگوں کو برداشت کرنا پڑا کہ صرف پانچ ہفتے بعد …

    مزید